خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 39
اميرا " اِنْ تَرَكْتُمُونِي فَأَنَا كَا حَدِكُمْ وَلَعَلَى اسْمَعُكُمْ وَأَطْوَعُكُمْ يمن وليتموه امركم وَاَنَا لَكُمْ وَزِيرًا خَيْراً نهج البلاغه ص۵۹ مطبوعہ ایران ) اگر تم مجھے چھوڑ دو تو میں بھی تم جیسا ایک فرد ہی ہوں گا اور میں شخص کو بھی تم والی خلافت بناؤ گے میں تم سے زیادہ اس کا فرماں بردار او مطیع رہوں گا۔یکیں امیر کی نسبت وزیر بننے کو پسند کرتا ہوں۔مگر جب صحابہ نے اصرار کیا تو بیعت لینے کے بعد فرمایا :- واللهِ مَا كَانَتْ لِي فِي الْخَلَافَةِ رَغْبَةً وَلَا فِي الْوِلَايَةِ ارْبَةُ شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید جلد ۲ ص ) خدا کی قسم نہ کبھی خلافت میں مجھے کوئی رغبت ہوئی اور نہ میں ولایت و حکومت ہی کا طلبگار رہا ہوں۔سيد العارفين محمد نور بخش القهستانی کے مشجر الاولیاء میں ایک حقیقت افروز روایت لکھی ہے جس سے حضرت سید نا علی رض کے واقعہ بیعت کی ایک نگشندہ کڑی کا سراغ ملتا ہے۔فرماتے ہیں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب انتخاب خلافت کا مرحلہ در پیشین تھا تو اس وقت آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسل اور تمیز و تکفین میں مشغول تھے۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے انگوٹھی اُتاری اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حوالے کی اور فرمایا لوگوں کے پاس جائیں اور ان کو سنبھالیں اور اپنی امارت پر متفق کریں۔اس پر حضرت ابوبکر تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ حضرت عمر