خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ

by Other Authors

Page 40 of 131

خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 40

۳۷ بن الخطاب بھی تھے۔حضرت عمر نے لوگوں سے خلافت کے متعلق گفتگو کی تو وہ سب حضرت ابو بکر کی خلافت پر راضی ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کی برکت اور حضرت علی المرتضی نے کی حسین تدبیر سے وہ سارے متفق ہو گئے۔(تلخیص از مشیر الاولیاء ص۲۳۳، ص۲۳۲) بیعت عامہ سقیفہ بنی ساعدہ کی پہلی بیعت کے بعد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے معا بعد ہوئی تھی۔دوسری سبعیت اگلے روز مسجد نبوی میں ہوئی اس بیعت کو مورخین بیعت عامہ کا نام دیتے ہیں۔(طبری دوم ص ۱۸۲ - ۱۸۲۹ ، ما ثبت بالسنه م ۲۷۵ از حضرت عبد الحق محدث دہلوی ) اس موقعہ پر حضرت عرض کے متواتر اصرار کو دیکھ کر حضرت ابوبکرہ منبر کی طرف بڑھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد نے تڑپا دیا اور نیچے بیٹھ گئے جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہوا کرتے تھے۔اس موقعہ پر تمام صحابہ نے ایک بار پھر بیعت کی۔بعد ازاں خلیفہ بلا فصل سید نا حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ رسول اللہ نے پہلا خطاب عام کیا جو تھا کساری، عاجزی، منکسر المزاجی اور بے نفسی کا آئینہ دار تھا۔آپ نے دوران خطبہ یہ بھی فرمایا :- " وَاللهِ ما كنتُ حريصًا على الإمارة يوما ولا ليلة قط ولا كنت راغبا فيها ولا سالتها الله في سر ولا علانية