خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 52
خلافة على منهاج النبوة ۵۲ جلد سوم ایسا فضل ہے کہ ان لوگوں کے وقت میں جتنے لوگ جلسہ سالانہ پر شامل ہوتے تھے اُس سے بہت زیادہ آج میرے جمعہ میں ہیں۔سوائے افغانستان کے باقی تمام بیرونی ممالک کی جماعتیں میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئی ہیں اور یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ یہ سلسلہ خدا کے ہاتھوں میں ہے اس لئے دشمن کی باتوں سے نہ گھبراؤ۔وہ کسی کو مار بھی دیں تو بھی یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔تمہیں چاہئے کہ تم اپنے اصول کو قائم رکھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے ایمان کو قائم رکھو اور آپ کی آمد کے مقصد کو یاد رکھو ، خلافت کی اہمیت کو نہ بھولو اور اسے پکڑے رہو پھر تمہیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔ڈر کی بات صرف یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے اصول کو نہ بھول جائیں اور سلسلہ کی وجہ سے جو فوائد حاصل ہو رہے ہیں انہیں اپنی طرف منسوب نہ کر لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور آپ کی نبوت اور ماموریت سے آپ کی جماعت نے فائدہ اُٹھایا مگر بعض انگریزی دانوں نے سمجھا کہ ترقی ہم سے ہو رہی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو الگ کر دیا اور پھر بھی سلسلہ کو ترقی دے کر بتا دیا کہ اس سلسلہ کی ترقی کسی انسان سے وابستہ نہیں۔پس مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوگا بلکہ ڈریہ ہے کہ خلافت سے علیحدہ ہو کر تم لوگ نقصان نہ اٹھاؤ۔کسی خلیفہ کی وفات سلسلہ کے لئے نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی لیکن خلافت سے علیحدگی یقیناً نقصان کا باعث ہے۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا ہے جس کے دونوں پہلو ہو سکتے ہیں ، منذ ر بھی اور مبشر بھی۔لیکن چونکہ باہر سے بھی قریباً ایک درجن خطوط آئے ہیں جن میں دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کو قتل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح دشمنوں کے ارادوں کے متعلق بھی دوست اطلاع دیتے رہتے ہیں اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ دوستوں کو ہوشیار کر دوں کہ اصل چیز اصول ہیں۔اگر تم ان کو یاد رکھو گے تو کوئی تمہیں نہیں مٹا سکتا لیکن اگر اصول کو بھول جاؤ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ اصبح الاول اور میں مل کر بھی تم کو نہیں بچا سکتے۔بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے دعائیں کیں تو معلوم ہوا کہ آپ کی عمر میں سال بڑھ گئی ہے مگر اصل بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔اگر چہ دعا سے مبرم تقدیر میں بھی بدل جاتی