خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 53

خلافة على منهاج النبوة ۵۳ جلد سوم ہیں مگر وثوق سے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہر حال اس جلسہ پر بھی شبہ کیا جا تا تھا کہ دشمن شرارت کریں گے اور اس کے آثار بھی موجود تھے اس لئے ہمارے دوستوں نے کئی قسم کی تدابیر اختیار کیں لیکن چوبیس یا پچیس دسمبر کی شب کو میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جلسہ کے ایام میں مجھ پر حملہ کیا جائے گا اور بعض کہتے ہیں کہ موت انہی دنوں میں ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ ہے جس سے میں یہ بات پوچھتا ہوں اُس نے کہا کہ میں نے تمہاری عمر کے متعلق لوحِ محفوظ دیکھی ہے آگے مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ اس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا یا بھول گیا ہوں۔زیادہ تر یہی خیال ہے کہ اُس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا۔لیکن جلسہ کی اور بعد کی دو ایک تاریخیں ملا کر اس نے کہا کہ ان دنوں میں یہ بات یقیناً نہیں ہو گی۔اُس دن سے میں نے تو بے پروا ہی شروع کر دی اور اگر چہ دوست کئی ہدایتیں دیتے رہے کہ یوں کرنا چاہئے مگر میں نے کہا کوئی حرج نہیں۔چند دن ہوئے میں نے ایک اور رویا دیکھا ہے جس کا مجھ پر اثر ہے اور اس سے مجھے خیال آیا کہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاؤں کہ وہ ہمیشہ اصل مقصود کو مد نظر رکھیں۔میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑی کی چوٹی ہے جس پر جماعت کے کچھ لوگ ہیں میری ایک بیوی اور بعض بچے بھی ہیں۔وہاں جماعت کے سرکردہ لوگوں کی ایک جماعت ہے جو آپس میں کبڈی کھیلنے لگے ہیں جب وہ کھیلنے لگے تو کسی نے مجھے کہا یا یو نہی علم ہوا کہ انہوں نے شرط یہ باندھی ہے کہ جو جیت جائے گا، خلافت کے متعلق اس کا خیال قائم کیا جائے گا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فقرہ کا مطلب یہ تھا کہ جیتنے والے جسے پیش کریں گے وہ خلیفہ ہوگا یا یہ کہ اگر وہ کہیں گے کہ کوئی خلیفہ نہ ہو تو کوئی بھی نہ ہوگا۔بہر حال جب میں نے یہ بات سنی تو میں ان لوگوں کی طرف گیا اور میں نے ان نشانوں کو جو کبڈی کھیلنے کے لئے بنائے جاتے ہیں مٹا دیا اور کہا کہ میری اجازت کے بغیر کون یہ طریق اختیار کر سکتا ہے یہ بالکل نا جائز ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس پر کچھ لوگ مجھ سے بحث کرنے لگے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چه اکثریت پہلے صرف ایک تلعب کے طور پر یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کون جیتا ہے اور خلیفہ کا تعین کرتا ہے اور کم لوگ تھے جو خلافت کے ہی مخالف تھے مگر میرے دخل دینے پر جو لوگ