خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 51
خلافة على منهاج النبوة ۵۱ جلد سوم باگیں ایک دن ہمارے ہاتھ میں آتی ہیں اس لئے ہمارے مد نظر ہر وقت یہ بات ہونی چاہئے کہ ہمارا مقصود ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ہمیں آدمیوں کا خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ان میں سے کوئی زندہ رہتا ہے یا مرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق قتل کے منصوبے کئے گئے ، حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے زمانہ میں پیغامی آپ کو اس قدر بد نام کرتے رہتے تھے کہ جس کے نتیجہ میں دلوں کے اندر اس قدر شکوک پیدا ہو چکے تھے کہ آپ سے محبت رکھنے والے بعض لوگ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ ان میں سے کسی کی دی ہوئی دوائی آپ استعمال کریں۔اگر چہ میں آج بھی اس قدر مخالفت کے باوجود اس بات کو غلط سمجھتا ہوں اور میں یہ امید بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے اس قدر گندے ہو سکتے تھے مگر میں دیکھتا تھا کہ ایسے لوگ موجود تھے جن کے دلوں میں یہ شکوک پائے جاتے تھے۔اب یہ زمانہ ہے اور مجھے صراحتاً ہر سال کئی کئی بار قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور زمیندار کے مضمون کی اشاعت کے بعد متواتر تین چٹھیاں ایسی موصول ہوئیں۔ایک ابھی ۳۱ / دسمبر کو ملی تھی کہ یکم جنوری کے روز تم کو قتل کر دیا جائے گا۔میں ان کے بیشتر حصہ کو دھمکی سمجھتا ہوں مگر ایک حصہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو سنجیدگی سے میرے متعلق ایسا ہی ارادہ رکھتا ہو لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے ہمارا سلسلہ انسانوں کا نہیں کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ کسی شخص کی وفات کے بعد یہ ختم ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مخالف خیال کیا کرتے تھے کہ آپ کی زندگی کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔لیکن پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہ کہا جانے لگا کہ مرزا صاحب تو جاہل تھے سارا کام مولوی صاحب ہی کرتے تھے ان کی آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے تو بس یہ سلسلہ ختم۔پھر ان کی آنکھیں بند ہوئیں اور لوگوں نے خیال کیا کہ اصل کام انگریزی خوان لوگ کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نکال کر باہر کیا اور جماعت کی باگ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جس کے متعلق پیغامی کہتے تھے کہ ہم خلافت کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ہماری مخالفت کی بناء یہ ہے کہ اگر جماعت کی باگ ایک بچے کے ہاتھ میں آگئی تو سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔مگر دیکھو کہ اس بچے کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کی گاڑی ایسی چلائی کہ وہ ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچی اور اب اللہ تعالیٰ کا