خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 622
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۲ جلد سوم اگر حضرت معاویہؓ اور حضرت علی کی جنگ ہو جاتی تو دمشق میں بیٹھے ہوئے حضرت معاویہؓ بہت بڑی فوج لا سکتے تھے مگر مدینہ میں حضرت علیؓ اپنے ساتھ کوئی فوج نہیں لا سکتے تھے۔پس چونکہ عرب سے کافی فوج کا ملنا مشکل تھا اور حضرت علیؓ نے یہ دیکھا کہ معاویہ دمشق میں بیٹھے تیاری کر رہے ہیں آپ مدینہ چھوڑ کر عراق میں چلے گئے اور آپ نے سمجھا کہ عراق اور ایران خوب آباد علاقے ہیں میں وہاں رہ کر اسلام کی حفاظت کے لئے کافی فوج بھرتی کر سکتا ہوں۔یہ جواب تھا جو اس روز میں نے دیا مگر بعد میں مجھے خیال آیا کہ حضرت علیؓ کے عراق جانے میں اللہ تعالیٰ کی ایک اور بھی بہت بڑی حکمت تھی۔بسا اوقات انسان ایک قدم اٹھاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں یہ قدم فلاں غرض سے اٹھا رہا ہوں لیکن در حقیقت اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی کوئی اور حکمت کام کر رہی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب مکہ میں مظالم ہوئے اور یہ مظالم روز بروز بڑھتے چلے گئے تو آپ نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ ہجرت کر کے گیا ہوں جہاں کھجور کے درخت بڑی کثرت کے ساتھ ہیں۔طائف اور مکہ کے درمیان ایک مقام نخلہ نامی ہے آپ کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ غالباً ہجرت کا مقام نخلہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہجرت کا مقام نخلہ نہیں بلکہ مدینہ تھا۔اگر آپ اپنی مرضی سے ہجرت کرتے تو آپ کی نظر مکہ سے دس پندرہ میل کے فاصلہ پر ہی پڑتی اور اس طرح الہی منشاء جو اسلام کے دنیا میں پھیل جانے کے متعلق تھا وہ پورا نہ ہو سکتا۔کیونکہ مکہ متمدن دنیا سے بالکل الگ تھلگ تھا اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ حکم تھا کہ دشمن پر خود حملہ نہیں کرنا۔اگر یہی صورتِ حالات رہتی تو ایرانی اور رومی حکومت کو کبھی خیال بھی نہ آسکتا تھا کہ مسلمان ایک بڑھنے والی قوم ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت آپ مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو ایک طرف رومیوں کی نظر آپ پر پڑنی شروع ہوئی اور دوسری طرف ایرانیوں نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مشاہدہ شروع کیا کیونکہ پاس پاس ہی یہودی اور عیسائی قبائل آباد تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت پکڑنی شروع کی تو مدینہ کے مرکز ہونے کی وجہ سے یہودی اور عیسائی قبائل کے ذریعہ ادھر ایران میں