خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 621
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۱ جلد سوم جب حضرت عثمان شہید ہو گئے اور صحابہ وغیرہ نے اپنی طاقت کو منظم کرنا شروع کیا تو بغاوت کرنے والے گروہ کو اپنی فکر پڑ گئی۔چنانچہ ان میں سے کچھ تو روتے ہوئے حضرت علی کے پاس پہنچے اور کہا کہ حضور پر ہی اب تمام عالم اسلامی کی وحدت کا انحصار ہے۔کچھ حضرت معاویہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ پر ہی اب اسلام کی ترقی کی بنیاد ہے۔کچھ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے پاس جا پہنچے اور کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں۔کچھ حضرت عائشہ کے پاس جا پہنچے اور ان سے اس فتنہ کے دور کرنے کی درخواست کی۔حضرت علیؓ کے گرد یہ جتھا زیادہ ہو گیا کیونکہ حضرت علی کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ پہلے امن قائم کرنا چاہئے اور اس کے بعد حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا دینی چاہئے۔اگر فور سزا دی گئی تو فساد بڑھ جائے گا کم نہیں ہو گا۔اس کے بالمقابل حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ ان کو فورا سزائیں ملنی چاہئیں۔یہ دونوں نقطہ نگاہ سیاسی لحاظ سے صحیح ہیں کبھی فوری گرفت کرنی پڑتی ہے اور کبھی ڈھیل دینی پڑتی ہے۔میاں بیوی کا ہی جھگڑا ہوتو کبھی خاوند بالکل خاموش رہتا ہے اور کبھی اس خیال سے کہ بچے گستاخ نہ ہو جائیں اسے فوراً ڈانٹ دیتا ہے۔اسی طرح حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے تو یہ پہلو اختیار کیا کہ ان لوگوں کو فوراً سزاملنی چاہئے اور حضرت علی نے یہ پہلو اختیار کیا کہ پہلے امن قائم ہونے دو پھر جو مجرم ثابت ہو گا اسے سزادی جائے گی۔چونکہ عراق کے لوگ بھی اس فتنہ کو کھڑا کرنے والے تھے اور وہ حضرت عثمان کو شہید کرنے میں پیش پیش تھے یہ لازمی بات تھی کہ وہ اپنے ا بچاؤ کی تدبیر کرتے۔حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے تو ان کو دھتکار دیا مگر حضرت علی چونکہ پہلے امن قائم کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے ان سے ہمدردی کرنا مناسب سمجھی اور سرزنش نہ کی۔یہی وجہ تھی کہ عراق والوں کو حضرت علیؓ سے ہمدردی ہوگئی اور انہوں نے حضرت علی کو عراق میں بلا لیا۔پس اس میں مدینہ والوں کی کسی دشمنی کا سوال نہیں۔مدینہ والے انصار تھے اور انصار حضرت علیؓ سے خاص طور پر محبت رکھتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ چونکہ بالعموم بدوی قبائل فوجوں میں چلے گئے تھے اور عرب کی آبادی بہت کم ہو چکی تھی اس لئے عرب میں رہنے والا بیرونی حملہ کی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔مثلاً