خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 620
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۰ جلد سوم اچھے متمدن تھے اور ان میں صنعت و حرفت کا خوب زور تھا۔غرض ایک طرف عراق اور دوسری طرف فلسطین اور شام چھاؤنیاں بن گئیں اور اسلامی فوجوں نے ان مقامات پر اپنا ڈیرا ڈال لیا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب اسلامی حکومت قائم ہوئی اور عراق کا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا تو حضرت عمر نے فیصلہ فرمایا کہ جس قدر اُفتادہ زمینیں ہیں انہیں محفوظ رکھا جائے لوگوں میں بانٹا نہ جائے۔جب ایران سے اسلامی فوجیں واپس لوٹیں تو چونکہ طرز زندگی ان کے ذوق کے مطابق نہیں رہی تھی وہ ان چھاؤنیوں میں بس گئیں اور یکدم بڑے بڑے شہر کوفہ اور بصرہ وغیرہ آباد ہو گئے۔لیکن ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو چسکے پڑے ہوئے تھے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدویوں میں لوٹ مار بھی ہوتی ہوگی۔اگر یہ لوگ واپس مدینہ میں چلے جاتے تو دین کی خدمت کرتے اور دنیا دارانہ خیالات ان کے دماغوں میں پیدا نہ ہوتے۔مگر جب یہ واپس لوٹے تو ادھر ان کو کوئی کام نہ رہا اور ادھر ان کی عادتیں خراب ہو چکی تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ زمینیں ہم میں تقسیم ہو جانی چاہئیں تا کہ ہم ان سے فائدہ اٹھائیں۔عراق کے گورنر نے حضرت عمر کو یہ تمام حالات لکھے مگر آپ نے فرمایا میں اس مطالبہ کو منظور نہیں کر سکتا یہ اُفتادہ زمینیں اسی طرح پڑی رہیں تا کہ آئندہ عرب کی ترقی کی سکیم جاری رہے۔حضرت عمر کے بعد حضرت عثمان نے بھی ایسا ہی کیا۔مگر آپ کے ابتدائی چھ سالہ عہد خلافت میں ایک طرف تو جنگیں ختم ہو گئیں اور دوسری طرف کوئی نیا پروگرام نہ بنا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں کی طرف سے مطالبہ بڑے زور سے شروع ہو گیا۔حضرت عثمان کو حضرت عمر کی پالیسی ہی پسند تھی اور انہوں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ ان زمینوں کو بجائے لوگوں میں تقسیم کرنے کے ان کی آمد کو غرباء پر خرچ کیا جائے۔اس کے نتیجہ میں لوگوں میں اور زیادہ بے چینی شروع ہوگئی اور انہوں نے گورنروں پر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔آخر یہ فتنہ بڑھتے بڑھتے ایسا رنگ اختیار کر گیا کہ تمام عالم اسلامی اس کی لپیٹ میں آگیا اور حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا۔اسلام میں اختلافات کا آغاز میری ایک کتاب ہے جس میں یہ تمام تفاصیل چھپی ہوئی موجود ہیں۔