خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 612
خلافة على منهاج النبوة ۶۱۲ جلد سوم مسئلہ کے متعلق دریافت کرتا تو آپ حضرت خلیفہ اول سے فرماتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ اس کو سمجھا دیں۔اور واقعہ میں ہماری مجلس کوئی مدرسہ تو نہیں کہ جس میں لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لئے ہم آجاتے ہیں اس غرض کے لئے علماء اور مدرس مقرر ہیں اور وہ اپنی اپنی جگہ سوالات پوچھنے والوں کی تشفی کر سکتے ہیں۔صحابہ کرام کی احتیاط صحابہ تو اس بارہ میں اس قدر احتیاط سے کام لیا کرتے تھے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم بدویوں کا انتظار کیا کرتے تھے کہ وہ کب آتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات دریافت کرتے ہیں۔گویا ادب کی وجہ سے وہ خود سوال کرنے کی جرات ہی نہیں کرتے تھے۔قادیان سے باہر رہنے والوں کی معذوری بددی کے معنی باہر سے آنے والے کے ہیں۔آجکل کے حالات کے لحاظ سے وہ لوگ جو قادیان سے باہر رہتے ہیں اور جنہیں یہاں بہت کم آنے کا موقع ملتا ہے وہ اگر ایسے سوالات کر لیں تو معذور سمجھے جاسکتے ہیں۔مثلاً وہ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ وضو کا مسئلہ کس طرح ہے یا طہارت کا کیا طریق ہے؟ اور ان کے لحاظ سے اس قسم کے سوالات طبیعت پر گراں بھی نہیں گزرتے کیونکہ وہ عموماً باہر رہتے ہیں اور انہیں ان مسائل کی واقفیت نہیں ہوتی لیکن وہ لوگ جو قادیان میں رہتے ہیں ان کو اس قسم کے سوالات میں کیا وقت پیش آسکتی ہے کہ انہیں سوائے اس مجلس کے سوالات کرنے کے لئے اور کوئی جگہ ہی نہیں ملتی۔قادیان میں کئی علماء موجود ہیں کئی دینی علم رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں اور وہ ان سوالات کو بخوبی حل کر سکتے ہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ ایک شخص ان سے تو نہیں پوچھتا اور اس مجلس میں آکر سوال کر دیتا ہے۔مجلس میں بیٹھنے کی غرض حالانکہ یہ مجلس اس لئے قائم کی گئی ہے اور میں محض اس لئے باہر آکر بیٹھتا ہوں کہ آنے والی جنگ سے پہلے دوستوں کو اس کے لئے تیار کر دوں۔مگر میں تو لوگوں کو جنگ کے لئے تیار کرنا چاہتا ہوں اور لوگ مجھے گھسیٹ کر کسی اور میدان میں لے جاتے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے جنگ میں