خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 611
خلافة على منهاج النبوة ۶۱۱ جلد سوم دل اس نور کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو۔ضمنی طور پر کوئی سوال کرنا منفی طور پر کبھی بھی کوئی سوال پوچھ لینا منع نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لوگ سوالات پوچھ لیتے تھے۔قرآن کریم نے بھی سوالات کرنے سے کلیتہ نہیں روکا صرف یہ فرمایا ہے کہ اس رنگ میں جو نا پسندیدہ ہو سوال نہیں کرنا چاہئے ورنہ اگر امام لوگوں کے سوالات کا جواب ہی دیتا رہے تو یہ صورت بن جاتی ہے کہ گو یا مقتدی امام کے اختیارات کو چھین گویا رہے ہیں۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ امام خود فیصلہ کرے کہ اس نے کیا بات کہنی ہے نہ یہ کہ لوگ اسے اپنی مرضی کے مطابق باتیں کرنے پر مجبور کریں۔آخر ایک شخص کو لیڈر بنایا ہی کیوں جاتا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے۔یہ نہیں ہوتا کہ لوگ لیڈر کی راہنمائی کرنے لگ جائیں۔پھر اگر لوگ اپنے امام اور لیڈر کو اپنی مرضی کے مطابق بولنے ہی نہ دیں تو راہنمائی کا فرض وہ کس طرح سرانجام دے سکتا ہے۔یہ تو امام کے دل میں خدا تعالیٰ نے ڈالنا ہے کہ کونسی باتیں قلب کی صفائی کے لئے ضروری ہیں اگر اس کو موقع ہی نہیں ملے گا اور لوگ اپنے مشغلہ میں مشغول رہیں گے تو وہ خاموش رہے گا یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جو اعمال کے نتائج ظاہر کرنے کا ہوتا ہے۔اور چونکہ لوگوں نے محض باتوں میں اپنے وقت کو ضائع کر دیا ہو گا عملی رنگ میں اصلاح اور تربیت اور تزکیہ کے طور پر کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہو گا اس لئے نتائج ان کے خلاف نکلیں گے اور وہ کفِ افسوس ملتے رہیں گے۔پھر عام طور پر لوگوں کے سوالات محض ایسے ہوتے ہیں جو دماغی تعیش بے جا سوالات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں روحانیت کی طرف کم اور مادیت کی طرف زیادہ میلان پایا جاتا ہے۔حالانکہ اصلاح نفس کے لئے ان مضامین کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے جن کا روحانیت کے ساتھ تعلق ہے۔باقی مسائل پر روشنی ڈالنے کے لئے سلسلہ کے علماء موجود ہیں ان سے اس قسم کے مسائل پوچھنے چاہئیں نہ یہ کہ جو سوال دل میں پیدا ہو وہ براہِ راست امام سے دریافت کرنا شروع کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی طریق تھا کہ جب آپ سے کوئی دوست کسی