خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 610

خلافة على منهاج النبوة ۶۱۰ جلد سوم امام کی مجلس میں بیٹھنے کے ضروری آداب فرموده ۲۸ مئی ۱۹۴۴ء بعد نماز مغرب ) سوال کرنے کی ممانعت میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ دین اور خدا کا قرب اتنا باتوں سے حاصل نہیں ہوتا جتنا کہ دل کی صفائی کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی محبت سے حاصل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی زیادہ سوالات کرنے سے منع فرمایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب مجلس میں بیٹھتے تو بعض دفعہ ستر ستر دفعہ استغفار کرتے چلے جاتے تھے۔اگر وہ ایسی ہی مجلس ہوتی جیسی ہماری مجلس ہوتی ہے تو ستر دفعہ استغفار کرنے کا آپ کے لئے موقع ہی کون سا نکل سکتا تھا کوئی اُدھر سے کہتا کہ فلاں بات کس طرح ہے اور کوئی ادھر سے بولتا کہ فلاں مسئلہ کس طرح ہے۔یہ طریق کبھی بھی روحانیت کی صفائی اور اس کی ترقی کے لئے مفید نہیں ہوتا۔امام اگر باہر مجلس میں بیٹھتا ہے تو صرف اس لئے آکر نہیں بیٹھتا کہ وہ سوالوں کا جواب دیتا رہے بلکہ اگر مجلس میں بیٹھ کر لوگ ذکر الہی کریں اور اپنے قلوب کی صفائی کا خیال رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید بجالائیں تو یہ چیز سوالات سے بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ مفید نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔مجلس کو ڈیبیٹنگ کلب بنا دینا ہرگز مؤمنوں کا شیوہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان کے خلفاء اور مصلحین کا کام ڈیبیٹنگ کلب میں بیٹھنا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اس لئے وہی شخص ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو مجلس میں خاموشی کے ساتھ بیٹھے ، اپنے قلب کو ہر قسم کے دُنیوی مالوفات سے پاک کر دے اور اسے اس طرح خالی کرے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور نازل ہو تو اس کا