خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 609
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم نہیں ہو گا۔جس وقت اس کا اس شخص سے ٹاکرا ہو گا جو خدا کی طرف سے آئے گا تو مؤخر الذکر ہی جیتے گا۔اب خدا نے جو وعدہ کیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں خلافت ہمیشہ جاری رہے گی بلکہ وعدہ یہ ہے کہ جب تک مومنوں اور اعمالِ صالح رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہوگی وہ کبھی خلافت کے انعام سے محروم نہیں ہو سکتے۔اس کے معنی یہ نہیں کہ اگر جماعت میں خرابی بھی آجائے تو بھی اس میں خلیفہ آتے رہیں گے۔ہمیشہ اکثریت کو دیکھا جاتا ہے جب قوم میں اکثریت مومنوں اور اعمالِ صالح رکھنے والوں کی ہوگی تو ان میں خلافت ضرور ہوگی۔جس وقت تک قوم میں یہ روح رہے گی خلافت ضرور قائم ہوگی مگر جب یہ روح مٹ جائے گی تو چاہے اس کا نام خلیفہ ہو وہ خلافت نہیں ہو سکتی۔چاہے یہ سوال :۔کیا وہی خلیفہ ہوگا اور وہی مجدد؟ جواب :۔مجد د یت چلتی جاتی ہے اُس وقت صدی کا سر بھی ضروری نہیں ہوگا جس وقت جماعت میں یہ انتظام قائم رہے گا اور ایسا تسلسل جاری رہے گا تو اُس وقت ہر خلیفہ مجد د ہو گا یه تسلسل ۲۰۰ یا ۳۰۰ سال تک کیوں نہ جاری رہے صدی کا سرضروری نہیں ہوگا۔مگر جب خرابی ہو گی تو پھر آئندہ مسجد دصدی کے سر پر ہی آئے گا اور وہ خلیفہ نہیں ہوگا۔اُس وقت خلافت نام کی ہی ہوگی۔اور جب نظام خلافت سے باہر مجدد آئیں گے تو اُس وقت نام نہاد خلفاء ان کا مقابلہ کریں گے مگر خدا اس کو ہی فتح دے گا اور نام نہا د خلفاء شکست کھا ئیں گے“۔غیر مطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ) النور: ۵۶