خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 608
خلافة على منهاج النبوة ۶۰۸ جلد سوم حضرت مسیح موعود کے سلسلہ خلافت سے مراد ( ملفوظات ۶ فروری ۱۹۴۴ء غیر مطبوعہ ) سوال :۔حضرت مسیح موعود کے سلسلہ خلافت سے کیا مراد ہے؟ جواب:۔پہلے لوگوں نے بھی خلافت کے مسئلہ کے متعلق غلطی کھائی ہے اور ہماری جماعت بھی کھا رہی ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں جس خلافت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اُس وقت تک کیلئے ہے جب تک کہ مومنوں کی عمل صالح رکھنے والی جماعت ہوگی۔جب جماعت میں خرابی پیدا ہو جائے گی یا نقص آئے گا خلافت اپنی شکل بدل لے گی اور اس کے بعد حقیقی خلافت نہیں رہے گی اور وہ پھر تبھی قائم ہوگی جب کوئی مامور آئے گا اور ایسا مامورا ایسے وقت میں آئے گا جس وقت اسلامی خلافت اپنی شکل بدل چکی ہوگی۔تو جب جماعت میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو خلافت خلافت نہیں رہے گی بلکہ بادشاہت یا کوئی اور رنگ اختیار کر لے گی تو وعد الله الّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأرضے میں وعدہ اس شرط کے ساتھ کیا گیا ہے کہ جب کبھی اعمال صالح رکھنے والی جماعت ہوگی یعنی ان میں مومنوں کی اکثریت ثابت ہو جائے تو ان میں خلافت رہے گی۔اگر اس میں مومنوں کی اکثریت ثابت نہیں ہوگی تو پھر یہ خلافت خلافت نہیں ہوگی۔جس وقت تک یہ بات رہے گی خلافت قائم رہے گی اور جس وقت تفرقہ پڑ جائے گا جیسے کہ پہلے زمانہ میں مسلمانوں میں ہوا اور عملی طور پر مسلمانوں کی حالت میں نقص آ جائے تو پھر وہ خلافت سے محروم کئے جاتے ہیں۔محض خلیفہ کہلانے سے کوئی خلیفہ نہیں ہو جاتا جیسے ترکوں کا بادشاہ خلیفہ کہلاتا رہا ہے۔ایسا آدمی دنیا وی بادشاہ ہوتا ہے اور خلیفہ کہلانے کے با وجو د خلیفہ