خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 597

خلافة على منهاج النبوة ۵۹۷ جلد سوم ہے۔خلفاء کا ماننا ایسے عقائد میں سے نہیں بلکہ خلیفہ کا ماننا اس لئے ہے کہ سلسلہ کا انتظام قائم رہے۔یہ کہنا کہ بغیر بیعت ہی کے خلیفہ جو کہے مان لیں گے صحیح نہیں۔اس طرح اول تو خلیفہ کو یہ کیسے پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں شخص اپنے دل میں یہ ارادہ رکھتا ہے۔مثلاً آپ افسر ہوں اور ایک مہم آپ کے سپرد ہو جس کے سر کرنے کیلئے ایک سو دس آدمیوں کی ضرورت ہومگر آپ کے پاس سو آدمی ہوں اور میں آدمی ایسے ہوں جو اپنے گھر میں اس ارادے کے ساتھ بیٹھے ہوں کہ ہم بھرتی نہیں ہوتے اور اپنا نام فوج میں نہیں لکھواتے لیکن ہمیں یہ افسر صاحب جو حکم دیں گے ہم اس کو مان لیں گے تو ان کے اس خیال سے وہ مہم فتح نہیں ہوسکتی اور آپ ان سے کام نہیں لے سکتے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہوں تا کہ ضرورت کے وقت آپ ان سے کام لے سکیں۔اسی طرح بیعت کی ضرورت ہے اگر ایک کو اجازت مل جائے کہ وہ بیعت نہ کرے تو باقی یہ جو اس قدر بیٹھے ہیں اور گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں ان کو کیا ضرورت ہے کہ بیعت کریں یہ بھی آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھ سکتے ہیں۔( الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ء )