خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 596

خلافة على منهاج النبوة ۵۹۶ جلد سوم بیعت خلافت کی ضرورت ایک صاحب کی طرف سے سوال پیش کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں جب مان لیا کہ آپ خلیفہ ہیں تو پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا :۔ایسے امور جن کا عقائد کے لئے ماننا ضروری ہے ان میں سے ملائکہ بھی ہیں۔بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو مان لینا کافی ہے اور جو لوگ واقف نہیں کہ فرشتوں کے کیا کام ہیں اور ان پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے اور ان سے تعلق کی کیا ضرورت ہے ان کیلئے صرف یہی ہے کہ ان کو مان لیا جائے۔لیکن بعض اس قسم کی چیزیں ہیں کہ ان پر ایمان کے ساتھ ان کے احکام کے مطابق اعمال بھی کرنے کی ضرورت ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کو ماننا ایک علیحدہ فعل ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنا دوسرا فعل ہے۔اگر ایک شخص خدا تعالیٰ کو مان لیتا ہے تو وہ ایک حصہ کو مکمل کرتا ہے جس کا اس کو ثواب ملے گا اور اگر دوسرے حصہ کو پورا کرے گا تو اس کا علیحدہ ثواب ہوگا۔صرف خدا تعالیٰ کے ماننے میں ایمانی عمارت کا ایک حصہ بن جائے گا مگر عمارت نامکمل رہے گی۔اسی طرح رسول کا ماننا ایک کام ہے اور اس کے احکام کے مطابق اعمال کرنا دوسرا کام ہے اور ان دونوں کا ثواب ہے۔انبیاء کے لئے محض ماننے میں بھی ثواب ہے اور ایمان جب عمل کے ساتھ مل جائے تو پھر اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے۔پس بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان کا ماننا مستقل ایک فعل ہے۔لیکن خلفاء کا وجود ایسا نہیں کہ ان کا محض ماننا کسی ثواب کا موجب ہو۔ان کا ماننا تو اسی لئے ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کو قائم رکھتے ہیں اور اس کا انتظام کرتے ہیں اور یہی ان کی ضرورت ہے اور اسی لئے ان کی بیعت کی جاتی ہے۔خلفاء کا ماننے کا عقیدہ علیحدہ عقیدہ نہیں۔جس طرح کہ اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، رُسل ، کتب، قیامت وغیرہ عقائد ہیں اور ان کا ماننا ضروری