خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 598

خلافة على منهاج النبوة ۵۹۸ جلد سوم ترکی خلافت تھریس کے منتخبہ ترکی گورنر رفعت پاشا مقیم قسطنطنیہ نے جو اپنی ایک تقریر میں یہ کہا کہ سلطان سلیم کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ تھی کہ اس نے خلافت اور سلطنت کو جمع کر دیا۔آئندہ خلیفہ اور حاکم دنیوی جدا جدا ہوں گے اور موجودہ ترکی خلیفہ کو معزول کرنے کی ضرورت نہیں بیشک خلیفہ وہی رہیں لیکن حکومت دنیوی کو آئندہ ان سے کوئی واسطہ نہ ہوگا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے فرمایا کہ ہندوستان کے خلافت کمیٹیوں کے کارکنوں کی تو اس تقریر سے کمریں ٹوٹ جائیں گی کیونکہ ان کا سارا زور اسی بات پر رہا ہے کہ خلیفہ سے اقتدار دُنیوی جدا نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی مولوی محمد علی صاحب کو بھی اپنی غلطی معلوم ہوگی کہ وہ جو کہا کرتے تھے کہ خلیفہ تو وہ ہوتا ہے جس کے پاس حکومت ہو اس لئے سلسلہ احمدیہ میں خلافت نہیں ہوسکتی اور ترک سلطان خلیفۃ المسلمین کہلانے کا مستحق ہے، ہے“۔اہلحدیث اور ترکی خلافت ایک اور ذکر کے دوران میں فرمایا کہ اہلحد بیث اپنے مذہب کے رو سے سوائے قریش کی خلافت کے سب کی خلافت سے منکر ہیں۔نواب صدیق حسن خان صاحب ترکوں کی خلافت کے مخالف تھے۔یہ تو آجکل سیاسی ہوا کا اثر ہے کہ اہلحدیث بھی اپنے آپ کو خلافت ترکیہ کے قائل ظاہر کرتے ہیں“۔( الفضل ۹ نومبر ۱۹۲۲ء )