خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 593
خلافة على منهاج النبوة ۵۹۳ جلد سوم نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو کام خدا کرے خواہ اس کو بندے ہی کریں وہ خدا کا کام سمجھا جاتا ہے۔بیشک لوگ ہی خلیفہ کو منتخب کرتے ہیں مگر اس کے انتخاب کو خدا اپنا کیا ہوا انتخاب فرماتا ہے۔اور اس طریق انتخاب کے ذریعہ نبیوں اور خلفاء میں تمیز ہو جاتی ہے۔اگر خدا براہ راست کسی کو خلیفہ منتخب کرے اور کہے کہ میں تجھ کو خلیفہ بنا تا ہوں تو اس خلیفہ اور نبی میں کوئی فرق نہیں رہ سکتا۔پس نبی کا انتخاب خدا نے خاص اپنے ذمہ رکھا اور خلیفہ کا بندوں کے ذریعہ۔مگر ایسا کہ بندوں سے اپنی منشاء کے مطابق انتخاب کراتا ہے اور اس کی تائید و نصرت کا وعدہ فرماتا ہے۔نبی جو جماعت بناتا ہے اس کا بیشتر حصہ خلیفہ کے ساتھ ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ کے وقت میں جب اختلاف ہوا تو صحابہ کا بڑا حصہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھا“۔(الفضل ۵/جنوری ۱۹۲۲ء) آدم و داؤد کی خلافت حکیم صاحب نے عرض کیا کہ " قرآن کریم میں آد اور داؤد کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے“۔فرمایا: ” لفظ خلیفہ کے وسیع معنی ہیں۔آدم اور داؤد کی خلافت الگ قسم کی تھی اس کی مثال اور ہے۔وہ نبوت کے رنگ کی خلافت تھی۔مثلاً خلیفہ تو درزی حجام کو بھی کہا جاتا ہے۔کوئی کہے میں نے پانچ خلیفہ دیکھے تو وہ درزی کا کام کرتے تھے یہ کیوں نہیں کرتے ؟ تو کہا جائے گا کہ اُن کی خلافت اور ہے اور یہ خلافت اور “ 66 حکیم صاحب نے عرض کیا کہ ”یہ تو قرآن کریم کے مسئلہ خلافت جزوی ہے ماننے والے کیلئے ہوا منکر قرآن کیلئے کیا ثبوت ہوگا ؟ فرمایا : ” خلافت کا مسئلہ تو جزوی مسائل میں سے ہے مثلاً کوئی منکرِ اسلام کہے کہ صبح کی نماز میں دورکعتیں کیوں ہیں اور مغرب میں تین کیوں اور عصر میں چار کیوں؟ تو اُس کو کہا جائے گا کہ یہ جزوی مسئلہ ہے جس کی بنیاد نقل پر ہے۔جو مسائل اصولی ہوں ان کی بنیاد عقل پر ہوتی ہے اور جو جزوی ہوں ان کی بنیاد نقل پر۔ہم منکر اسلام سے خلافت کے متعلق یا رکعات نماز کے متعلق بحث نہیں کریں گے بلکہ صداقت اسلام کے اصول کے متعلق کریں گے۔جب وہ مان لے گا پھر اس کو جزوی مسائل کے تصفیہ کے لئے نقلی بحث میں لے آئیں گے۔حضرت علیؓ