خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 592

خلافة على منهاج النبوة ۵۹۲ جلد سوم خلیفہ اور پریزیڈنٹ حکیم احمد حسین صاحب لائلپوری سے فرمایا کہ آپ نے سوال کیا ہے کہ خلیفہ اور انجمن کے صد ر دونوں کو لوگ منتخب کرتے ہیں اس لئے دونوں میں کیا فرق ہے؟ فرمایا:۔اس میں شبہ نہیں کہ بظاہر یہ دونوں ایک نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسا ہی فرق ہے جیسا ان دو بچوں میں فرق ہوتا ہے جن میں سے ایک زمین پر بیٹھا ہو اور دوسرا ایک مضبوط جوان شخص کے کندے پر سوار ہو اور دونوں کسی درخت سے پھل توڑنا چاہیں۔ظاہر ہے کہ زمین پر بیٹھنے والے کے مقابلہ میں کامیاب وہی ہو گا جو ایک جوان کے کندے پر سوار ہے کیونکہ اس نے اس ذریعہ سے پھل کو ہاتھ سے پکڑ کر تو ڑ لیا ہے۔زمین پر بیٹھنے والا ممکن ہے پتھر مار کر پھل گرانا چا ہے مگر ضروری نہیں کہ اس کے پتھر سے پھل ٹوٹے لیکن اس کے مقابلہ میں کندھے پر چڑھنے والا یقیناً کامیاب ہوگا۔اسی طرح کسی انجمن یا حکومت کے صدر کو بھی لوگ ہی منتخب کرتے ہیں اور خلیفہ کو بھی۔مگر خلیفہ کا انتخاب خدا کے وعدہ کے ماتحت ہوتا ہے اس کی تائید خدا کرتا ہے کسی اور صدر کے لئے کوئی وعدہ نصرت الہی نہیں ہوتا۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ حضرت صاحب ہمیشہ تقریر فرمایا کرتے تھے اور خطبہ الہامیہ کے دن بھی حضور ہی نے تقریر فرمائی تھی مگر باقی تمام تقریروں کو الہامی نہیں کہتے اور صرف خطبہ الہامیہ کو ہی الہامی تقریر کہتے ہیں۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اور تقریروں کے متعلق وعدہ الہی نہ تھا اور خطبہ الہامیہ کے لئے خاص حکم اور وعدہ تھا اس لئے یہی الہامی کہلاتا ہلاتا ہے۔چونکہ وعدہ الہی دوسرے انتخابوں کے ساتھ نہیں ہوتا اس لئے ان میں وہ بات نہیں ہوتی جو خلافت کے انتخاب کے لئے ہے کیونکہ یہ وعدہ الہی کے ماتحت ہے۔لوگوں کا منتخب کیا ہوا صدر ممکن ہے خدا کی ناراضی کا موجب ہو مگر خلیفہ نہیں ہوسکتا “۔( الفضل ۲ /جنوری ۱۹۲۲ء)