خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 590
خلافة على منهاج النبوة نوجوان ۵۹۰ جلد سوم مختلف ممالک کے بادشاہ ہیں فرانس کا ہے ، انگلستان کا ہے، آسٹریا کا ہے یہ سب بادشاہ کہلاتے ہیں۔اسی طرح جو بھی خلیفہ ہو وہ ایسا ہی ہونا چاہئے جیسے پہلے ہوئے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح: یہ تو آپ کو علم ہی ہو گا کہ مختلف ممالک کے بادشاہوں کے اختیارات میں فرق ہے اور سب کے اختیارات ایک جیسے نہیں ہیں۔نوجوان اوّل یہ تو مجھے معلوم ہے کہ ان کے اختیارات میں فرق ہے لیکن ان کے نام میں تو فرق نہیں۔حضرت خلیفہ المسح : پس اگر ان کے اختیارات میں فرق ہونے کی وجہ سے ان کے نام میں کوئی فرق نہیں اور اس طرح ان کے بادشاہ کہلانے میں کوئی حرج نہیں تو اسی طرح خلافت کے متعلق بھی سمجھ لیجئے۔خلفائے اربعہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے اور رسول کریم کے پاس حکومت بھی تھی اس لئے وہ خلفاء حکومت بھی رکھتے تھے۔لیکن میں جس کا خلیفہ ہوں وہ چونکہ حاکم نہیں تھا اس لئے میرے پاس کس طرح حکومت آجاتی۔میں تو روحانی بادشاہ کا خلیفہ ہوں اس لئے روحانی خلیفہ ہوں“۔الفضل ۲۶ فروری ۱۹۲۰ء)