خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 589
خلافة على منهاج النبوة ۵۸۹ جلد سوم حضرت خلیفۃ اسیح: کیا تمام کے تمام صحابہ نے ؟ نوجوان نہیں صحابہ کی مجاریٹی ( کثرت ) نے۔حضرت خلیفہ المسح : یہی دلیل میرے خلیفہ ہونے کی صداقت میں موجود ہے۔نوجوان کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی خلافت بالکل ان کی خلافت کی طرح ہے؟ حضرت خلیفہ المسیح : بالکل ان کی خلافت کی طرح تو نہیں کہا جاسکتا ان کے پاس فوج تھی ، ملک تھا ،سلطنت تھی میرے پاس نہیں ہے۔نوجوان: خلفائے اربعہ میں تو اُولی الامر کی صفت بھی پائی جاتی تھی جو کہ آر میں نہیں پھر آپ کو خلیفہ کس طرح کہا جا سکتا ہے۔حضرت خلیفہ امسح : دیکھئے دولت مند کی یہ تعریف ہے کہ جس کے پاس دولت ہو۔جو شخص فرانس میں ہوگا اس کے پاس فرانس ہی کا سکہ دولت کے طور پر ہوگا۔جو نوجوان امریکہ میں ہوگا اس کے پاس امریکہ کا ہی سکہ ہوگا اور جو چین میں ہوگا اس کے پاس چین کا ہی سکہ ہوگا اور ان سب کو دولت مند کہا جائے گا نہ یہ کہ امریکن دولت مند نہیں ، یا چینی دولت مند نہیں۔اب ایک ایسا شخص جو روحانی طور پر اُولی الامر ہوگا اس کا خلیفہ روحانی ہی ہوگا اور جو روحانی اور جسمانی ہے اس کا خلیفہ بھی روحانی اور جسمانی اولی الامر ہوگا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روحانی اور جسمانی دونوں طریق کے اولی الامر تھے اس لئے آپ کے خلفاء روحانی اور جسمانی اولی الامر ہوئے۔لیکن حضرت صاحب چونکہ روحانی اولی الامر تھے اس لئے آپ کا خلیفہ بھی روحانی اولی الامر ہی ہوگا۔ایسا خلیفہ تو نامکمل خلیفہ ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح : اگر اس سے آپ کی یہ مراد ہے کہ ہمارے پاس حکومت نہیں تو یہ ہم خود کہتے ہیں کہ ہماری خلافت روحانی ہے جسمانی نہیں۔