خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 46

خلافة على منهاج النبوة ۴۶ جلد سوم نہیں تھا کہ مسجد مبارک میں نکاح ہونا ضروری ہے اور اگر کسی اور جگہ نکاح پڑھوائیں گے تو ہمارا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔وہ تین دفعہ کے انکار کا ذکر نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ سزا صرف اس لئے دی گئی ہے کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میں نہیں ہوا ؟ یہ سننے والا جھٹ کہہ اُٹھتا ہے کتنا بڑا ظلم ہے۔شریعت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر نکاح مسجد مبارک میں ہی ہو یا کیا جماعت کے ذمہ دار افسروں کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ نکاح ہمیشہ مسجد مبارک میں ہی پڑھے جایا کریں ؟ تب سننے والا کہتا ہے یہاں کے لوگ کتنے ظالم اور سیاہ دل ہو گئے کہ مسجد مبارک میں نکاح نہیں ہوا تو محض اس بناء پر بائیکاٹ کر دیا گیا۔منافق کھا جائیں گے اس بات کو کہ مجلس شوری میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ قادیان کے نکاح اور باہر کے بھی ایک مقرر شدہ فارم کی خانہ پری اور اس کی تصدیق کے بعد پڑھے جائیں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔وہ اس بات کو بھی کھا جائیں گے کہ تین دفعہ خلیفہ وقت سے پوچھا گیا مگر اس کے انکار کے باوجود چند لونڈے جن میں سے چند او باش اور چند بدمعاش تھے انہیں اکٹھا کر کے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں نکاح پڑھ دیا گیا۔سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں آخر کیا برکت ہو سکتی تھی سوائے اس کے کہ اس نکاح کی پوشیدگی مد نظر تھی۔وہ ان تمام باتوں کو کھا جائیں گے اور صرف یہ کہہ کر پرو پیگنڈا کریں گے کہ دیکھئے کتنا ظلم ہو گیا ہے۔صرف اتنے قصور پر کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میں نہیں ہوا ہمارا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔اور اس طرح نا واقفوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔بالکل ممکن تھا میرے حکم کو سننے میں انہیں کوئی غلط نہی ہوگئی ہو۔گو میں نہیں سمجھ سکتا کہ تین دفعہ کے واضح انکار کے باوجود کس طرح کوئی غلط نہی ہوسکتی ہے۔خصوصاً جبکہ ان کا اقرار ہے کہ انہیں کہا گیا کہ اس نکاح کی اجازت نہیں لیکن انہوں نے اس کے با وجود نکاح کر دیا۔تا ہم مان لیا جا سکتا تھا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی مگر وہ جو کہا جاتا ہے کہ خدا مجھے نادان دوستوں سے بچائے ان کے منافق دوست ہیں جو اس معاملہ کو بھیا نک شکل دیتے چلے جارہے ہیں۔پس اس لئے اب انہیں جتنی بھی شدید سزا ملے اس کی ذمہ داری ان منافق پر و پیگینڈا کرنے والوں پر ہے جو ان کی تائید میں لکھتے ہیں اور محض جھوٹ اور فریب سے کام لے کر