خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 45
خلافة على منهاج النبوة ۴۵ جلد سوم پس گو میں کئی دفعہ جماعت کے لوگوں کو توجہ دلا چکا ہوں کہ اگر انہوں نے بیعت کی ہے تو اس کے کوئی معنی ہونے چاہئیں ، کوئی قیمت ہونی چاہئے ، چاہے دھیلہ اور دمڑی ہی کیوں نہ ہو۔مگر اس قسم کی بیعت کی کہ منہ سے بیعت کا اقرار کیا جائے اور اطاعت کے معاملہ میں خلیفہ وقت کی صریح نافرمانی کی جائے ایک دمڑی بھی قیمت نہیں۔مگر اب میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ کمزور سے کمزور ایمان والوں کی بیعت کی بھی کچھ نہ کچھ قیمت ہوتی ہے۔چاہے وہ کوڑی ہی ہولیکن اس قسم کی نا معقول حرکت کے بعد تو بیعت کی کوڑی بھر بھی قیمت نہیں رہتی اور یہ اطاعت کا اقرار نہیں بلکہ دھوکا بازی اور فریب ہے جسے کوئی بھی دنیا میں وقعت دینے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔انسانوں کے سامنے ایسا آدمی ممکن ہے متقی بن جائے اور حقیقت سے نا واقف انسان اسے دیکھ کر کہے کہ کیا ہی متقی شخص ہے مگر خدا کے حضور وہ متقیوں کی فہرست میں نہیں ہوسکتا۔اور ایسا شخص جو ان حالات میں دوسرے پر رحم کرنے کی تلقین کرتا ہے اور اگر خود اسے کسی دفتر کا چپڑاسی بھی بنا دیا جائے تو وہ ساری دنیا کی گردنیں کاٹنے لگ جائے اور کہے کہ چپڑاسی کی یہ لوگ کیوں بات نہیں مانتے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس قسم کے خطوط لکھنے والے اگر مدرس ہیں تو چھوٹے چھوٹے طالب علموں کے متعلق ایسے ایسے بغض نکالتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔دکاندار ہیں تو وہ اپنے معاملات میں اتنے بغیض ہوتے ہیں کہ گویا خدا کی خدائی بھی انکی حکومت کے آگے بیچ ہے۔مگر کوئی سلسلہ کے نظام کے خلاف بغاوت کرے تو اُس وقت یہ لوگ کو دکر سب سے آگے آجائیں گے اور کہیں گے رحم کریں ، رحم کریں۔میں سمجھتا ہوں کبھی کوئی جماعت منافقوں سے خالی نہیں ہوئی۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت منافق موجود تھے تو اب بھی ہونے چاہئیں۔مگر عموماً اس قسم کے لوگوں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ہاں مومنوں کو بیدار کرنے کے لئے کبھی کبھی یہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔چونکہ ان کی باتیں سننے والا یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ جسے سزا دی گئی وہ ہمارا ایک بھائی ہے ، اس لئے وہ کہہ دیتا ہے کہ کتنا ظلم ہو گیا۔حالانکہ منافق جب لوگوں سے باتیں کرتے ہیں تو انہیں یہ نہیں بتاتے کہ خلیفہ وقت سے تین دفعہ پوچھا گیا اور تینوں دفعہ انکار کے باوجود چند لفنگوں اور بدمعاشوں کو اکٹھا کر کے نکاح پڑھوا دیا گیا۔بلکہ وہ کہتے ہیں تو یہ کہ ہمیں یہ پتہ