خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 573
خلافة على منهاج النبوة ۵۷۳ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتمائی طور پر بھی کوشاں رہوں گا“۔جلد سوم اوپر کے قواعد کے مطابق صحابہ اور نمائندگان جماعت جن میں امراء اضلاع سابق حال بھی شامل ہیں کی تعداد ڈیڑھ صد سے زیادہ ہو جائے گی۔ان میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کی تعداد اتنی قلیل رہ جاتی ہے کہ منتخب شدہ ممبروں کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ہاں خلیفہ وقت کا انتخاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد اور جماعت کے ایسے مخلصین میں سے ہو سکے گا جو مبائعین ہوں اور جن کا کوئی تعلق غیر مبائعین یا احرار وغیرہ دشمنانِ سلسلہ احمدیہ سے نہ ہو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت تک ایسے مخلصین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے ) ضروری نوٹ :۔سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نے آئندہ کے لئے بنیادی قانون انتخاب خلافت کے لئے مذکورہ بالا اراکین اور قواعد کی منظوری کے ساتھ بطور بنیادی قانون کے فیصلہ فرمایا ہے کہ:۔آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔مجلس علماء سلسلہ احمدیہ دو مجلس علماء کی یہ تجویز درست ہے۔“ دستخط مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ۱۸-۳-۵۷ ۲۰-۳-۵۷