خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 572

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۲ جلد سوم کے کام کے لئے حسب ذیل دستور العمل منظور فرمایا ہے:۔ا۔مجلس انتخاب خلافت کے جو اراکین مقرر کئے گئے ہیں اُن میں سے بوقت انتخاب حاضر افراد انتخاب کرنے کے مجاز ہوں گے۔غیر حاضر افراد کی غیر حاضری اثر انداز نہ ہوگی اور انتخاب جائز ہوگا۔ب۔انتخاب خلافت کے وقت اور مقام کا اعلان مجلس شوری کے سیکرٹری اور ناظر اعلیٰ کے ذمہ ہوگا۔اُن کا فرض ہوگا کہ موقع پیش آنے پر فوراً مقامی اراکین مجلس انتخاب کو اطلاع دیں۔بیرونی جماعتوں کو تاروں کے ذریعہ اطلاع دی جائے۔اخبار الفضل میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ج۔نئے خلیفہ کا انتخاب مناسب انتظار کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہونا چاہئے۔مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونا لازمی ہے۔اس درمیانی عرصہ میں صدر انجمن احمد یہ پاکستان جماعت کے جملہ کا موں کو سرانجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں نئے خلیفہ کے انتخاب کا سوال اٹھے تو مجلس انتخاب خلافت کے اجلاس کے وہ پریذیڈنٹ ہوں گے۔ورنہ صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے اُس وقت کے سینئر ناظر یا وکیل اجلاس کے پریذیڈنٹ ہوں گے۔(ضروری ہے کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید فوری طور پر مشترکہ اجلاس کر کے ناظروں اور وکلاء کی سینیارٹی فہرست مرتب کر لے ) مجلس انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھائے گا کہ :۔کہ:۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین میں سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو“۔جب خلافت کا انتخاب عمل میں آجائے تو منتخب شدہ خلیفہ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ لوگوں سے بیعت لینے سے پہلے کھڑے ہو کر قسم کھائے کہ :۔