خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 574

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۴ جلد سوم اس کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے نمائندگان مجلس شوری کو مخاطب کرتے ہوئے فرما یا :۔شاید مولوی صاحب کو یہ بات یاد نہیں رہی یا پھر انہیں بتائی نہیں گئی کہ یہ خط جو انہوں نے پڑھا ہے اور اُس میں عبدالمنان سے کہا گیا ہے کہ تم بعض ایسے مضامین لکھو جو اسلام کی تائید میں ہوں تا اس سے جماعت احمدیہ کو جو تم سے نفرت ہے دور ہو جائے۔اس سے اوپر لکھا ہے ” ماموں جان اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماموں جان کے الفاظ سے کیسے پتہ لگا کہ یہ خط عبدالمنان کو لکھا گیا ہے۔سو اس کا پتہ اس طرح لگتا ہے کہ جس دن یہ خط ملا اور مولوی صاحب نے مجھے بھیجا اور کہا کہ یہ میرے بیٹے کو بازار سے ملا ہے تو اُس دن نائی میری حجامت بنانے آیا ہوا تھا۔پہلے جب بھی وہ آیا کرتا تھا مجھے بتایا کرتا تھا کہ آج میاں عبدالمنان نے مجھے حجامت بنوانے کے لئے بلوایا اور وہاں مجھے سے یہ یہ باتیں کیں لیکن اُس دن اُس نے کوئی بات نہ کی۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ آج تو نے میاں عبد المنان کی کوئی بات نہیں بتائی۔اس پر اُس نے کہا کہ میاں عبد المنان تو بڑی مدت سے میری دکان پر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔آج اتفاقا گول بازار میں ( جہاں سے یہ خط ملا ہے ) وہ خود اور اُن کے بیٹے پھر رہے تھے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دکاندار جو اُن کا کرایہ دار تھا آگے آیا اور کہنے لگا میاں صاحب! میں بڑی دیر سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔دفتروں میں میں کہاں کہاں جاتا۔میں نے آپ کو کرایہ دینا تھا آپ ملتے ہی نہیں۔میں نے اس دکاندار کو کہا کہ تم کیوں تکلیف کرتے ہو میاں صاحب کو ضرورت ہو گی تو وہ آکر کرایہ مانگ لیں گے۔تو یہ واقعہ اور اس خط کا وہاں سے ملنا بتا تا ہے کہ ممکن ہے جیب سے رومال نکالتے ہوئے یہ خط میاں عبد المنان سے نیچے گر گیا ہو۔پھر میں نے گھر میں بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ شاید آپ کو معلوم نہیں حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے ساتھ جو تعلق رکھنے والے لوگ ہیں وہ سارے کے سارے میاں عبدالمنان کو ماموں جان ہی کہتے ہیں اس لئے انہوں نے کہا ”ماموں جان“ کے الفاظ کی وجہ سے آپ ان کے کسی بھانجے یا بھانجی کی تلاش نہ کریں کیونکہ بیسیوں ایسے آدمی ہیں جن کے ساتھ ان کے تعلقات