خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 563

خلافة على منهاج النبوة ۵۶۳ جلد سوم کے ساتھ جنگ کر رہا تھا فرمایا یہ جہنمی ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے سنا بعض نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے درست معلوم نہیں ہوتی۔اس قدر جان تو ڑ کر لڑنے والا شخص جہنمی کس طرح ہو سکتا ہے۔اس پر میں اس شخص کے ساتھ ہولیا تا کہ اس کا انجام دیکھوں۔وہ اس زور کے ساتھ لڑتا تھا کہ مسلمانوں کے منہ سے مَرحَباً نکل جاتا تھا۔آخر وہ زخمی ہوا اور مسلمان اُسے جنت کی مبارک دینے لگے تو اُس نے کہا میں خدا اور اس کے رسول کے لئے نہیں لڑا بلکہ فلاں کا بدلہ لینے کے لئے لڑ رہا تھا۔پھر زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتا ہوا خود کشی کر کے مر گیا۔یہ دیکھ کر وہ صحابی واپس لوٹے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ صحابی نے کہا آپ نے ایک شخص کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے مگر بعض نے کہا وہ تو بہت اخلاص سے لڑ رہا ہے وہ کیونکر جہنمی ہوسکتا ہے۔اس پر میں اس کے ساتھ ساتھ رہا۔اب وہ خود کشی کر کے مر گیا ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اَشْهَدُاِنِّی رَسُولُ اللهِ۔میں شہادت دیتا ہوں کہ میں خدا کا رسول ہوں۔تو اس شخص کا خدمت کرنا اسے بری نہیں قرار دے گیا۔بہر حال اگر کوئی شخص قانون شکنی کرتا ہے یا قانون شکنی کی روح پیدا کرتا ہے تو وہ مجرم ہے اور قابل گرفت ہے۔مگر نظارتوں میں دیکھا گیا ہے کہ بجائے یہ تسلیم کرنے کے کہ قانون شکنی کی گئی ہے کہا یہ جاتا ہے کہ اس پر عمل کرنا ہی ناممکن تھا۔مثلاً یہی محصلین کے دورہ کا سوال تھا۔اگر یہ کہا جاتا کہ ان کا دورہ کرنا بجٹ کی تشخیص کے لئے ضروری تھا مگر ایسا طوفان آ گیا کہ راستے بند ہو گئے تو اور بات تھی۔یہ قانون شکنی نہ ہوگی مگر یہ نہیں بتایا جا تا کہ دورہ کرنا کیوں ناممکن تھا۔پھر ناظر نے یہ جواب دیا ہے کہ میرے نزدیک شہری جماعتوں کو بجٹ خود تشخیص کرنا چاہئے۔اسی طرح دیہاتی جماعتوں کے متعلق یہ جواب نہیں دیا کہ اتنے محصل نہیں کہ سب جماعتوں میں دورہ کر سکتے بلکہ یہ کہا ہے کہ دوسرے کاموں میں مصروف رہے۔نظارت کا کام تھا کہ م حصلوں کو اس کام پر لگا دیتی کہ فارم پُر کرائیں۔پھر جتنا کام ہوسکتا ان سے کرایا جاتا اور باقی کے لئے کہہ دیا جاتا کہ بقیہ کام میرے اختیار کا نہ تھا، تو یہ درست ہوتا کہ جتنا کام