خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 562
خلافة على منهاج النبوة ۵۶۲ جلد سوم فیصلہ کرے۔پچھلے دنوں نظارت دعوت و تبلیغ کی دعوت پر میں نے ایک تقریر کی تھی جس میں کہا تھا کہ تمام تاریخ صدرا انجمن احمدیہ کی بتاتی ہے کہ یا تو خلیفہ کے فیصلہ کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔میں نے اُس وقت کہا تھا کہ میں ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل دور ہو جائے۔جب ایک بات بالبداہت ثابت ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ خلیفہ کی سمجھ میں نہ آئے ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ (نعُوذُ بِاللهِ ) خدا تعالیٰ سب سے بڑے بیوقوف کو خلیفہ بناتا ہے اور بالفرض کوئی بات خلیفہ کی سمجھ میں نہ آئے تو بھی خلیفہ کا ہی فیصلہ ماننا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ میں کوئی ایسا فیصلہ کروں جو درست نہ ہو اور قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ غلط ہو لیکن تم اگر اسے نہ مانو گے تو کافر ہو جاؤ گے۔غرض غلطی کا امکان تو ہر جگہ موجود ہے۔ہوسکتا ہے کہ خلیفہ کا کوئی فیصلہ غلط ہو۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ خلیفہ میں عقل تو ہے لیکن فیصلہ غلط کیا گیا ہے تو بھی تمہارا فرض ہے کہ اس کی تعمیل کرو۔اپنا صحیح فیصلہ اس کے مقابلہ میں لا کر نظام کی جڑ کو نہیں کاٹنا چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں برابر یہ طریق انجمن کا چلا جاتا ہے کہ خلیفہ کے فیصلہ کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یا صدرانجمن کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا بعض لوگوں میں منافقت پائی جاتی ہے کیونکہ صدرانجمن اور ناظر خلافت کے فیصلوں کے لئے روک ثابت ہو رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کریں اور خلافت کے فیصلے روک دیں۔ایک ناظر کو سزا کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ اس نے بار بار میرے فیصلوں کو رد کیا اور جماعت کے اموال کو ضائع کیا۔گو اس کی عزت کی خاطر یہ کہا گیا ہے کہ وہ ریٹائر ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں وقت آچکا ہے کہ اس خرابی کو دور کر دیا جائے۔ایک ناظر کو تو میں نے ہٹا دیا ہے اگر یہی بات جاری رہی تو دوسروں کی نسبت بھی فیصلہ کر دیا جائے گا اور کسی کی پرواہ نہ کی جائے گی۔بعض لوگوں کو یہ غلطی لگتی ہے کہ چونکہ بہت کام کرتے ہیں اس لئے غلطیاں ہو جاتی ہیں اور اس سے کوئی حرج نہیں مگر یہ درست نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جنگ کے دوران میں ایک شخص کے متعلق جو بہت زیادہ زور