خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 550
خلافة على منهاج النبوة ۵۵۰ جلد سوم چلو۔پھر اس نے سوئی ماری تو کہنے لگا اب کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا شیر کا بایاں کان گود تا ہوں۔کہنے لگا اگر بایاں کان نہ ہو تو کیا شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں رہتا ہے۔کہنے لگا پھر آگے چلو۔اسی طرح اس نے ہر عضو کے متعلق کہنا شروع کیا آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور کہہ دیا کہ اس طرح شیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو بے شک انسان کمزور ہے، اس سے قصور ہو جاتا ہے مگر ایک قصور ہو گیا دو ہو گئے یہ کیا کہ ہر حکم کو چھوڑ دے۔پھر اس میں اسلام کا کیا باقی رہ سکتا ہے۔صرف یہ مان لینا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسیہ سے نبی ہو سکتا ہے اور یہ سمجھ لینا کہ اس طرح اسلام دنیا میں غالب آجائے گا ایسا ہی ہے جیسا کہ ڈاکٹر اقبال کا یہ کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین مان لینے کے بعد پھر خواہ کچھ کرو کوئی حرج نہیں اور اسلام غالب آ جائے گا۔پس ہمارا فرض اسلام کو اس کی جزئیات سمیت قائم کرنا ہے اور اپنی اصلاح کے لئے ہر حکم پر عمل کرنا ضروری ہے مگر یہ اصلاح میرے خطبات اور تقریروں سے نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر کان وہ تقریریں نہیں سن سکتا اور ہر شخص اُس وقت نہیں سن سکتا جب تک اس کا کان قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو بلکہ یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جماعت کا ہر فر د میرے ساتھ تعاون کرے۔ہر خطبہ جو میں پڑھتا ہوں ، ہر تقریر جو میں کرتا ہوں اور ہر تحریر جو میں لکھتا ہوں اسے ہر احمدی اس نظر سے دیکھے کہ وہ ایک ایسا طالب علم ہے جسے ان باتوں کو یاد کر کے ان کا امتحان دینا ہے اور ان میں جو عمل کرنے کے لئے ہیں ان کا عملی امتحان اس کے ذمہ ہے۔اس طرح وہ میری ہر تقریر اور تحریر کو پڑھے اور اس کی جزئیات کو یادر کھے۔پھر جب پڑھ چکے تو سمجھے کہ اب میں استاد ہوں اور دوسروں کو سکھلانا میرا فرض ہے۔پس جو کچھ میں کہتا ہوں وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کتاب تصنیف کر دی جائے اور سکول کا کورس تیار کر دیا جائے مگر اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو اسے یاد نہ کرے اور حفظ نہ کرے جیسا کہ مدرسہ کی کتاب یاد نہ کرنے والا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔پس آپ لوگ اقرار کریں کہ میں جو کچھ کہوں گا آپ طالب علم کی حیثیت سے اُسے سنیں اور یاد کریں گے اور جب یاد کر لیں گے تو پھر استاد کی