خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 549
خلافة على منهاج النبوة ۵۴۹ جلد سوم پیدا کر دیا۔بے شک اس کے لئے اس نے جبر سے کام لیا ، اپنے مخالفین کو قتل کرایا ، اُن کی جائدادیں چھین لیں اور ان کی اولادوں پر قبضہ کر کے ان کے خیالات کو ایک طرف لگا دیا لیکن ذرائع خواہ کچھ ہوں اُس نے یہ کام کیا اور کامیاب ہو گیا۔یہی بات ہٹلر نے جرمنی میں کی۔غرض اتحادِ خیالات کمزوروں کو بھی بڑا طاقتور بنا دیتا ہے۔پس جب تک اتحادِ خیالات پیدا کرنے کی ہم کوشش نہیں کرتے وہ نتائج نہیں دیکھ سکتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے مقدر ہیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ آج نہیں تو کل ضرور رونما ہوں گے مگر وہ کل ہمارے لئے خوشگوار نہیں ہوگا کیونکہ ہم میں سے بہت سے وہی کھیل کھیل رہے ہیں جو ڈاکٹر اقبال نے حال ہی میں کھیلا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی نماز چھوڑ دے تو مسلمان رہ سکتا ہے، اگر کوئی زکوۃ نہ دے تو مسلمان رہ سکتا ہے ، اگر عورتیں پرده ترک کر دیں تو مسلمان رہ سکتی ہیں، غرض اسلام کے ہر حکم کو ترک کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے لیکن اگر یہ نہ مانے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا تو پھر مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ہم میں سے بھی کئی ہیں جو کہتے ہیں ہم اگر اسلام کے کسی حکم پر عمل نہیں کرتے یا کسی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کیا ہوا ، ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو مانتے ہیں۔اگر کوئی اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اس سے اسلامی احکام کے مطابق سلوک نہیں کرتا تو وہ یہ کہہ دینا کافی سمجھتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتا ہوں ، اگر کوئی اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیتا تو کہہ دیتا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتا ہوں ، اگر کوئی اپنے بچوں کو تعلیم اسلامی طرز کے مطابق نہیں دلاتا تو کہہ دیتا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتا ہوں ، اگر کوئی ڈاڑھی منڈوا تا ہے تو کہہ دیتا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتا ہوں مگر مانتا کیا ہے خاک ! جب وہ تفصیلی احکام نہیں مانتا۔اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے گودنے والے سے کہا تھا میری کلائی پر شیر گود دو۔جب اس نے سوئی ماری اور اسے درد ہوا تو کہنے لگا کیا کر رہے ہو؟ گودنے والے نے کہا شیر کا دایاں کان گود نے لگا ہوں۔اس نے کہا اگر دایاں کان چھوڑ دیا جائے تو پھر شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ گودنے والے نے کہا رہتا ہے۔وہ کہنے لگا اچھا اسے جانے دو اور آگے