خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 551

خلافة على منهاج النبوة ۵۵۱ جلد سوم حیثیت سے دوسروں کو پڑھانا اپنا فرض سمجھیں گے۔جب تک ہم یہ صورت اختیار نہ کریں تب تک کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا یعنی انسانی ہاتھوں کے ذریعہ۔ورنہ خدا تعالیٰ تو کرے گا ہی جو کچھ کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہوا ہے۔خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا ہر فردشاگرد مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک نہایت مخلص جماعت دی ہے اور آپ لوگوں میں اتنا اخلاص ہے کہ جس کا نمونہ کسی اور جگہ نہیں مل سکتا اس نقطۂ نگاہ کے نہ پیدا ہونے کی وجہ سے کہ آپ لوگ شاگرد ہیں اور خلیفہ استاد ہے، پھر پڑھ لینے کے بعد تم استاد ہوا اور دوسرے لوگ شاگر د وہ کامیابی نہیں حاصل ہو رہی جو ہونی چاہئے۔اس کے مقابلہ میں ایک ایک دن جو گزررہا ہے ہمارے لئے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ایک گزرنے والے دن ہم جس قدر زمانہ نبوت سے قریب ہوتے ہیں دوسرے دن اس سے دور ہوتے جاتے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بظاہر تو یہ نظر آ رہا ہے کہ ہم ہر روز ترقی کی طرف جا رہے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم روز بروز ساحل عافیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔جن کوششوں ، محنتوں اور قربانیوں سے کل ہم اپنے مقصد اور مدعا میں کامیاب ہو سکتے تھے آج اُن سے زیادہ کی ضرورت ہے کیونکہ کل ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے جس قدر قریب تھے آج اس سے دور ہیں۔پس تم لوگ اس ظاہری کامیابی اور شان و شوکت کو نہ دیکھو جو نصیب ہو رہی ہے۔یہ مت دیکھو کہ کل جہاں ایک سو احمدی تھے وہاں آج ایک ہزار ہو گئے ہیں اور یہ مت خیال کرو کہ کل جہاں سے چندہ ایک ہزار آتا تھا آج دو ہزار آتا ہے بلکہ یہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی برکت کل ہمیں کتنی حاصل تھی اور آج کتنی حاصل ہے۔کیا کل جتنی ہی ہے یا آج کم ہے؟ یقیناً ہر گزرنے والا دن اسے کم کرتا جا رہا ہے۔اس کے لئے یہی صورت ہے کہ ہم اپنی جد و جہد کو بڑھاویں تا کہ جو کمی روحانی طور پر ہو رہی ہے اس کا ازالہ اپنی جد و جہد میں اضافہ کر کے کر سکیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ جو باتیں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں پوری ہو سکتی ہیں وہ سال بھر میں بھی نہیں ہوتیں۔ہمیں اس سے کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ فلاں سکیم پیش کی