خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 542

خلافة على منهاج النبوة ۵۴۲ جلد سوم کوئی سلسلہ احمدیہ کو مٹا نہیں سکتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر لوگوں نے خیال کیا کہ یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ سلسلہ کی روح رواں چلا گیا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ سلسلہ کی روح رواں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہ تھے بلکہ خدا نے اسے قائم کیا تھا۔اُسی نے اسے قائم رکھا اور اُسی نے حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ بنایا ہے۔کچھ لوگ جو ہی کہتے تھے کہ اس سلسلہ کو مولوی نورالدین صاحب چلا رہے ہیں انہوں نے کہا ہم نہ کہتے تھے سب کچھ مولوی نورالدین صاحب کرتے ہیں، ان کے بعد اس سلسلہ کا خاتمہ ہو جائے گا اور جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو سب نے کہا اب فیصلہ ہو جائے گا۔مخالفت کے کچھ اور سامان بھی پیدا ہو گئے یعنی کچھ لوگ جماعت سے علیحدہ ہو کر تفرقہ کرنے لگے مگر خدا تعالیٰ قدرت نمائی کرنا چاہتا تھا۔جہاں سلسلہ کے کاموں کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے اختلاف میں پڑ گئے وہاں سلسلہ کی باگ اُس نے ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جس کے متعلق کہتے تھے یہ بچہ ہے اور جو دنیا کے تجربہ کے لحاظ سے بچہ ہی تھا۔اُس وقت میری عمر ۲۶ سال کی تھی اور میں نے یہ عمر قادیان میں ہی بسر کی تھی۔دنیا کا مجھے کوئی تجربہ نہ تھا اور نہ ہی سلسلہ کے کاموں کا تجربہ تھا کیونکہ جن کے ہاتھوں میں کا م تھا وہ پسند نہ کرتے تھے کہ میں کوئی کام کروں۔ایسی حالت میں جب یہ کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا تو مخالف کہنے لگے اب یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور ان لوگوں میں سے جو جماعت سے علیحدہ ہو گئے تھے ایک نے کہا ہم تو یہاں سے جاتے ہیں عوام الناس احمدیوں نے ایک بچہ کو خلیفہ مقرر کر لیا ہے دس سال کے بعد دیکھنا ان عمارتوں پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور احمد بیت بالکل مٹ جائے گی۔یہ