خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 543
خلافة على منهاج النبوة ۵۴۳ جلد سوم ۱۹۱۴ء کے ابتداء کا واقعہ ہے جس پر ۱۸ سال ختم ہو گئے اور اُنیسواں شروع ہے۔گویا دودہا کے ختم ہونے والے ہیں لیکن دیکھ لو کون قابض ہے اور آیا سلسلہ تباہ ہو گیا ہے یا خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے اتنی ترقی کی ہے کہ کئی گنے زیادہ جماعت ہوگئی ہے۔جب خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ ڈور دی تو بیرونی ممالک میں کسی جگہ کوئی احمدی جماعت قائم نہ تھی سوائے افغانستان کے۔مگر اب خدا کے فضل سے مختلف ممالک میں جماعتیں قائم ہیں اور نہ صرف ہندوستانی جو دوسرے ممالک میں گئے ہوئے ہیں وہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے بلکہ ان ممالک کے باشندے بھی داخل ہو چکے ہیں اور غیر مذاہب کے باشندے بھی داخل ہو چکے ہیں۔پھر جس وقت اُس انسان کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے سلسلہ کا انتظام دیا جسے بچہ کہتے تھے اُس وقت خزانہ پر اٹھارہ ہزار قرض کا بار تھا اور صرف چند آنے خزانہ میں موجود تھے۔اُس وقت کہا گیا کہ قادیان کے لوگ چند دن میں بھو کے مرنے لگیں گے لیکن ابتداء ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے میرے اندر وہ طاقت اور قوت پیدا کی کہ مجھے ہر موقع پر یہی یقین رہا کہ یہ سلسلہ ضرور بڑھے گا اور ترقی کرے گا۔آج خدا کے فضل سے وہ نظارہ نظر آ رہا ہے کہ سلسلہ کی اشاعت اور جماعت کی ترقی الگ رہی خدا تعالیٰ نے جوڑ عب عطا کر رکھا ہے وہ جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گنے زیادہ تعداد رکھنے والوں کو بھی حاصل نہیں ہے۔اُس وقت جماعت احمدیہ کو ایک چھوٹی سی اور نا قابل التفات جماعت سمجھا جاتا تھا مگر اب اسے زبر دست طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔اُس وقت مسلمان کہتے تھے احمدیوں کو کسی کام میں اپنے ساتھ ملا کر کیا کرنا ہے مگر آج کہتے ہیں یہ ایک ہی جماعت ایسی ہے کہ اس کی امداد کے بغیر مسلمان ترقی نہیں کر سکتے۔یہ عملی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔کیا خدا تعالیٰ کی ان نصرتوں اور ان تائیدوں کو دیکھتے ہوئے ہم گھبرا سکتے ہیں ؟ اور کیا ان حالات میں دنیا کی مشکلات روک ہو سکتی ہیں ؟ پس اپنے فیصلوں میں یہ بات مدنظر رکھو کہ اس جگہ ہم خدا تعالیٰ کے ایجنٹوں کی حیثیت سے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کا سپرد کیا ہوا کام کرنا ہمارا فرض ہے۔کسی صورت اور کسی حالت میں بھی بزدل ، کمزور ہمت اور پست حوصلہ نہ بنو۔اپنی نظر میں بلند اور اپنے دل