خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 516

خلافة على منهاج النبوة ۵۱۶ جلد سوم تا کہ آئندہ خلفاء کو دقت نہ ہو۔اس کے متعلق میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ مجلس شوریٰ ایک طرف اس بات کو مد نظر رکھے کہ ایسی بات نہ ہو کہ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ قوم کے مال کا خلفاء بے جا تصرف کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہ ایسا گذارہ بھی مقرر نہ کرے کہ خلیفہ کے وقار کو صدمہ پہنچے۔بعض ایسے اخراجات ہو جاتے ہیں جو دوسروں کے لئے ان کو کرنے پڑتے ہیں۔مثلاً میں جب تک اس منصب پر قائم نہ ہوا تھا اپنے ذاتی اخراجات اُس وقت کم ہوتے تھے مگر اب بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔پہلے پرائیویٹ سیکرٹری کی ضرورت نہ تھی مگر اب جماعتوں کو ملنے ملانے اور دیگر کاموں کے لئے ضرورت ہے۔پھر باہر جاتے وقت علماء کی ضرورت نہ ہوتی تھی مگر اب ہوتی ہے۔یہ خلافت کی وجہ سے اخراجات ہوتے ہیں۔اُس وقت اگر ایک روپیہ سفر پر خرچ ہوتا تھا آج سو کرنا پڑتا ہے۔میں تو خرچ نہیں لیتا سوائے اُس سفر کے جو جماعت کے لئے ہو اور یہ بھی پہلے نہیں لیتا تھا مگر اب مالی مشکلات کی وجہ سے لے لیتا ہوں۔مگر ذاتی ضروریات کے لئے کہیں جاؤں تو خرچ نہیں لیتا لیکن جب آئندہ کے لئے غور کیا جائے گا تو ایسی باتوں کو مدنظر رکھنا پڑے گا۔یہ حالات ہیں جن کے ماتحت یہ قانون تجویز کیا گیا ہے اور میں اس پر زور اس لئے دیتا ہوں تا یہ ایسے آدمیوں کے ہاتھوں طے پا جائے جن کی اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں اور پھر اس لئے کہ ہماری جماعت کے خلفاء پر اموال یا انتظام کے نقص کا دھبہ نہ لگے۔کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ایسا آدمی تم پر مقرر ہوا کہ تمہارے اموال محفوظ نہ رہے۔اس کے بعد فرمایا :۔چونکہ اب سوال کی بہت وضاحت ہو گئی ہے اس لئے دوسرے احباب بھی اگر کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں۔اس پر بعض ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد حضور نے اس اہم تجویز کے بارہ میں درج ذیل فیصلہ فرمایا ) فیصلہ ” ہر خلیفہ کے متعلق مجلس شوری فیصلہ کرے کہ اُس کو کس قدر رقم گزارے کے لئے