خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 515

خلافة على منهاج النبوة ۵۱۵ جلد سوم حافظ روشن علی صاحب نے پیش کی تھی اور وہ انجمن کے ملازم نہ تھے۔مگر چونکہ اعلان نہیں ہوتا کہ فلاں تجویز کس نے پیش کی اور لوگوں کے سامنے صرف فیصلہ آتا ہے اس لئے فتنہ پیدا ہو سکتا تھا۔پھر میرے نزدیک اگر خلیفہ کو پابند کریں کہ مجلس شوری اگر اس کے گزارہ میں اضافہ کرے تو وہ منظور کرے اس سے اس کے وقار کو صدمہ پہنچتا ہے اور کئی لوگوں کے لئے بدظنی کا موقع پیدا ہوتا ہے اس لئے انتظام تو کرنا چاہئے کہ ضرورت کے وقت اضافہ کیا جائے مگر یہ گنجائش رکھنی چاہئے کہ خلیفہ انکار بھی کر سکے۔ہاں یہ بات بتا دینا چاہتا ہوں گوامید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کی آئندہ زیادہ توجہ تاریخ اسلام اور صحابہ کے اعمال کی طرف رہے گی نہ کہ جھوٹی روایات پر کہ بعض لوگ نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو صرف ۱۵ روپے گزارہ کے لئے ملتے تھے۔ایک شخص نے میرے سامنے یہ کہا۔میں نے کہا کہ ہم تو ۱۵ بھی نہیں لیتے مگر یہ میچ نہیں کہ ۱۵ روپیہ لیتے تھے۔شبلی جیسوں نے بھی لکھا ہے مگر یہ صریح غلط ہے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ خلفاء کی چار قسم کی آمدنی تھی۔(۱) بیت المال سے وظیفہ۔یہ اڑھائی سو روپیہ کے قریب ہوتا ہے۔(۲) ایک وظیفہ مقرر کیا گیا تھا بحیثیت صحابی ہونے کے۔اس کے متعلق حضرت ابو بکر کا علم نہیں مگر حضرت عمرؓ کو ۵۰۰۰ درہم سالانہ ملتے تھے۔یہ بدری صحابی کو ملتا تھا یعنی جو بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے انہیں دیا جاتا تھا۔(۳) جنگ میں جوفتوحات ہوتیں اور مال آتے وہ آ کر تقسیم ہوتے اور صحابہ کو دیئے جاتے۔اس کا ثبوت اسی واقعہ سے ملتا ہے جس سے کہتے ہیں خلفاء کو لوگ بُرا بھلا بھی کہہ دیتے تھے۔لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے جبہ پہنا۔وہ اُس کپڑے سے زیادہ کا تھا جو ان کے حصہ میں آیا تھا۔کسی نے کہا اُس سے تو یہ نہیں بن سکتا تھا ، پھر کس طرح بنایا ہے ؟ حضرت عمرؓ نے عبداللہ بن عمر کو بلایا اور اس نے آکر کہا کہ میں نے اپنے حصہ کا کپڑا بھی انہیں دے دیا ہے۔(۴) دوست احباب ہدیہ دے دیتے تھے۔میرے نزدیک خلفاء کے متعلق یہ ایک فتنہ ہے جو آئندہ زمانے میں پیدا ہو سکتا ہے اس لئے ہم ابھی سے گزارہ کے متعلق تشریح کر دیں