خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 517

خلافة على منهاج النبوة ۵۱۷ جلد سوم ملے گی اور دورانِ خلافت میں بھی اگر حالات متقاضی ہوں تو مجلس شوری کے لئے ضروری ہوگا کہ اس رقم کو بڑھا دے۔ضروری ہوگا کہ یہ رقم وقت کی ضروریات اور حالات کے مطابق ہو اور خلافت کے وقار کو اس میں مد نظر رکھا جائے۔مجلس شوری کو جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے اس مشورہ کے دوران میں خلیفہ وقت اس 66 مجلس میں شریک نہیں ہوں گے۔“ (اس کے بعد فرمایا ) کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار حضرت عمر کا طریق ہے اور میرے نزدیک عقلاً کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا ہی ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر سکتا۔نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شور کی اس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اس کا جانشین مقرر کر سکتی ہے۔نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضا حنا یا اشارتاً اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے۔اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شوری کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادانہ طور سے خلیفہ حسب قواعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ نا جائز تھی وہ مستر د کبھی جائے گی۔مفتی محمد صادق صاحب نے فرمایا کہ قریبی رشتہ دار کے الفاظ اڑا دیئے جائیں۔حضور نے فرمایا کہ لفظ یعنی سے ان الفاظ کی گوتشریح ہو جاتی ہے مگر ان کو اڑا ہی دیتے ہیں۔چنانچہ 66 ان کو اڑا کر اس طرح عبارت کر دی گئی۔د کوئی خلیفہ اپنے بعد باپ یا بیٹے۔اس سلسلہ میں ایک تجویز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے تحریراً حضور کی خدمت میں بھجوائی اس کے متعلق حضور نے فرمایا ) خلافت کے متعلق برادر عزیز مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک تجویز لکھ کر بھیجی ہے گو