خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 501

خلافة على منهاج النبوة ۵۰۱ جلد سوم مجالس شوری میں خلافت کے موضوع پر ارشادات شخصی حکومت اور اسلامی تعلیم مجالس شوری جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور میں منعقد ہوئیں اس دوران حضور کے پُر تاثیر ارشادات لوگوں نے سنے۔ان ارشادات میں جہاں جہاں حضور نے خلافت کے بارہ میں ذکر کیا وہ سب پیش خدمت ہے۔ر مضرات کو اسلام نے دور کر دیا ہے اور فوائد کو لے لیا ہے۔اس قسم کی شخصی حکومت کہ باپ کے بعد بیٹا جانشین ہو خواہ نالائق ہی ہو اس کو اُڑا دیا اور یہ رکھا کہ سب کی رائے سے ہو۔اور جب مقرر کر دیا تو اس کے لئے مشورہ رکھا تا کہ لوگ پارٹیاں نہ بنائیں اور چونکہ وہ خود اپنا جانشین بیٹے کو بھی بنا نہیں سکتا اس لئے اس کے ایسے فوائد نہیں ہوتے جو وہ پچھلوں کے لئے چھوڑ جائے۔اور میرے نزدیک شرعاً جائز نہیں کہ خلیفہ بیٹے کو مقرر کرے جیسا کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ کا فیصلہ ہے کہ بیٹا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔بعض نے چاہا کہ آپ اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کر دیں مگر انہوں نے انکار کر دیا ہے پھر خلیفہ کے لئے کوئی اور ایسا درجہ نہیں ہوتا جسے وہ حاصل کرنا چاہے اس لئے مقابلہ اور پارٹی فیلنگ نہیں ہوتا۔اس طرح انجمن کے مضرات کو دور کر دیا گیا۔اب ہندوستان کے رہنے والے کا ہی حق نہیں کہ مسیح موعود کا خلیفہ ہو بلکہ ممکن ہے کہ ایک دو خلیفوں کے بعد ( کیونکہ فی الحال ان میں احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی ) اس وقت عرب کے لوگوں میں سے کوئی خلیفہ ہو جائے یا حبشیوں میں سے آجائیں تو ان میں سے خلیفہ ہو جائے کیونکہ اس کے لئے کسی ملک کسی طبقہ کی کو ئی خصوصیت نہیں ہر جگہ کے لوگ ہو سکتے ہیں اس طرح اس کو اسلام نے عام کر دیا اور پارٹی فیلنگ کو بھی مٹا دیا۔