خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 485
خلافة على منهاج النبوة ۴۸۵ جلد سوم سپر د اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کام کیا گیا اور آپ نے اُس کو ایسی عمدگی سے سرانجام دیا کہ یورپ کے شدید سے شدید دشمن بھی اس کام کی اہمیت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔مگر چونکہ آپ کے دل پر خدا کا خوف طاری تھا آپ نے سمجھا کہ بیشک میں نے کام کیا ہے مگر ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ کام چاہتا ہو اور میں جس کا م کو اپنی خوبی سمجھتا ہوں وہ اللہ تعالی کی نگاہ میں خوبی نہ ہو اس لئے باوجود اتنا بڑا کام کرنے کے وفات کے وقت آپ تڑپتے تھے اور بار بار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوتے تھے رَبِّ لَا عَلَيَّ وَلَا لِی خدایا ! میں تجھ سے کسی انعام کا طالب نہیں صرف اتنی درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی سزا سے محفوظ رکھ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا مجھے خدمت کا حق جس رنگ میں ادا کرنا چاہئے تھا اُس رنگ میں ادا نہیں کیا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۹ صفحه ۲۳۱) بخاری کتاب الاحكام باب الاستخلاف صفحه ۱۲۴۳ حدیث نمبر ۷۲۱۸ مطبوعہ ریاض ١٩٩٩ء الطبعة الثانية