خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 486

خلافة على منهاج النبوة ۴۸۶ جلد سوم مطلع الفجر سے مراد سورۃ القدر کی آیت سلم نثاهِي حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔” یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مطلع الفجر سے کیا مراد ہے؟ سو یا د رکھنا چاہئے کہ مطلعِ الْفَجْرِ سے مراد وہ وقت ہے جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے اور یہ غلبہ ہمیشہ نبی کی وفات کے وقت ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیت“ میں تحریر فرمایا ہے کہ اے عزیز و ! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے خدا تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت چلی آتی ہے کہ وہ اپنی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا کہ دشمنوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرے۔ایک قدرت تو وہ ہوتی ہے جس کا نبی کے ذریعہ اظہار ہوتا ہے جب وہ اس راستبازی کا بیج بو دیتا ہے جس کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے۔اور دوسری قدرت وہ ہوتی ہے جس کا اُس کے خلفاء کے ذریعہ تکمیل کے رنگ میں اظہار ہوتا ہے۔پس یہاں مطلع الفجر سے نبی کی وفات کا زمانہ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تمہاری تمام سلامتی اس بات میں ہے کہ تم اس رات کی عظمت کو پہچانو اور وہ قربانیاں کرو جن کا اِس وقت تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔جب فجر کا طلوع ہو گیا اور نبوت کا زمانہ ختم ہو گیا اُس وقت آسمان کی نعمتیں آسمان پر رہ جائیں گی اور زمین اُن برکات سے حصہ نہیں لے سکے گی جن سے اس وقت حصہ لے رہی ہے۔۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہری رنگ میں غلبہ دینا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسلام کو ایسی طاقت حاصل ہوگئی کہ ابو بکر کی آواز جب قیصر سنتا تو وہ اُس کو ر ڈ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپ کا خط جب اس کے پاس گیا تو گواس پر اثر بھی ہوا مگر پھر اپنی