خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 484

خلافة على منهاج النبوة ۴۸۴ جلد سوم حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں فتوحات اور آپ کا خدا کے حضور بحجز وانکسار سورۃ العلق کا شان نزول اور وحی کی ابتداء کے بارے میں بیان کرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔تاریخ اسلام میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آٹھ سالہ عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ دیتے ہیں ، روم اور ایران کو شکست دے دیتے ہیں ، عرب کی سرحدوں پر اسلامی فوجیں بھجوا کر اسے ہرقسم کے خطرات سے محفوظ کر دیتے ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو قیامت تک ایک زندہ یادگار کی حیثیت میں قائم رہنے والا ہے مگر جب آپ روم کو شکست دے دیتے ہیں، جب ایران کو شکست دے دیتے ہیں ، جب یہ دوز بر دست ایمپائر اسلامی فوجوں کے متواتر حملوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں ، جب عمرؓ کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگتا ہے، جب دشمن سے دشمن بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ عمر نے بہت بڑا کام کیا اُس وقت خود عمر کی کیا حالت تھی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب آپ وفات پانے لگے تو اُس وقت آپ کی زبان پر بار بار یہ الفاظ آتے تھے کہ رَبِّ لَا عَلَى وَلَا لِی اے میرے رب! میں سخت کمزور اور خطا کا رہوں میں نہیں جانتا مجھ سے اپنے کام کے دوران کیا کیا غلطیاں سرزد ہو چکی ہیں۔الہی ! میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوں میں اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہوں اور میں اپنے آپ کو کسی انعام کا مستحق نہیں سمجھتا صرف اتنی التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے عذاب سے مجھے محفوظ رکھ۔غور کرو اور سوچو کہ ان الفاظ سے حضرت عمر کی کتنی بلند شان ظاہر ہوتی ہے۔آپ کے