خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 482

خلافة على منهاج النبوة ۴۸۲ جلد سوم محمد رسول اللہ علہ کے لئے ہمیشہ یہ قانون جاری رہے گا کہ ان کی آخرۃ اُولیٰ سے بہتر ہوگی سورة الضحیٰ آیت نمبر ۵ وللأخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِن الأولى کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔ممکن ہے کوئی کہے کہ مکہ تو آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوا تھا مگر عراق اور مصر وغیرہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتح ہوئے ہیں اس لئے شاید غلطی سے یہ نام لے لئے گئے ہیں مگر میں نے غلطی نہیں کی میں نے دیدہ و دانستہ شام اور عراق اور مصر وغیرہ کا نام لیا ہے۔اسی طرح ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ اگر وللآخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِنَ الأولى کے ثبوت میں عراق اور مصر وغیرہ کی فتوحات کو پیش کیا جا سکتا ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ ان فتوحات کے بعد اسلام کا تنزل شروع ہو گیا اور آخرۃ اُولی سے بہتر نہ رہی۔میں اس کو بھی درست سمجھتا ہوں اور اُس کو بھی درست سمجھتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ یہ تھا کہ وللأخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِن الأولى - محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہمیشہ یہ قانون رہے گا کہ ان کی آخرۃ اُولیٰ سے بہتر ہوگی۔جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود در ہے اسلام بڑھتا رہا اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے چھوڑ دیا اسلام کا تنزل شروع ہو گیا۔عراق اور شام اور مصر مسلمانوں کو اس لئے ملے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود تھے۔بیشک جسمانی اعتبار سے آپ وفات پاچکے تھے مگر روحانی اعتبار سے آپ کا وجود اُمت میں موجود تھا۔اور گو جسد عصری کے ساتھ آپ دنیا میں زندہ نہیں تھے مگر ابو بکر کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم