خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 481

خلافة على منهاج النبوة ۴۸۱ جلد سوم مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قلی کے ماتحت نہ ہو۔قوم پر بے شک تنزل آجائے گا، لوگ بے شک گر جائیں گے، کامیابی اور اقبال کی درخشندہ ساعات بے شک لیل کی شکل میں بدل جائیں گی مگر جتنا حصہ محمدیت کا زندہ رہنا ضروری ہے وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی معیت کے ماتحت قائم رہے گا۔اس میں در حقیقت اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جہاں دوسری اقوام خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر ترقی کر جاتی ہیں وہاں تیری قوم سے ایسا نہیں ہوگا بلکہ تیری قوم پر جب بھی ضحی کا دور آئے گا ما ودعك ربك کے ماتحت آئے گا۔خدا تعالیٰ سے الگ ہو کر دوسری قوموں کی طرح مسلمان کبھی بڑی ترقی نہیں کر سکتے۔چنانچہ دیکھ لو وہ تمام دوسری اقوام جن میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء مبعوث ہوئے تھے جب ان پر روحانی تنزل کا زمانہ آیا تو وہ باوجود اس کے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا ہوا تھا وہ دنیوی لحاظ سے ترقی کر گئیں مگر فرماتا ہے تیری قوم سے ایسا نہیں ہوگا بلکہ اُس پر جب بھی ضحی کا وقت آئے گا مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی کے ماتحت آئے گا اور جب کبھی اللہ تعالیٰ ان کو دنیوی ترقی نصیب کرے گا اس کے ساتھ ہی ان کا دین بھی درست ہوگا۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اُن پر منی کا وقت ایسی حالت میں آجائے جب خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑا ہوا ہو یا ان کی دینی اور اخلاقی حالت نا گفتہ بہ ہو۔عیسائیوں کو دیکھ لو ان پر دنیوی ترقی کا دور بے شک آیا مگر کس وقت؟ جب عملی لحاظ سے عیسائیت بالکل مر چکی تھی۔تین سو سال کے بعد جب عیسائی روحانی لحاظ سے سخت کمزور ہو چکے تھے اور ان میں حضرت مسیح کی تعلیم کے خلاف کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں اس وقت اُن پر د نیوی ضحی کا زمانہ آیامگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تیری اُمت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔مسلمانوں پر مٹی کا وقت اُسی وقت آئے گا جب خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق ہو گا۔اگر خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق اپنی بداعمالی کی وجہ سے کٹ چکا ہوگا توضیحی کا دور بھی ان پر کبھی نہیں آئے گا۔ضحی کا دور اُسی وقت آئے گا جب عملی طور پر وہ خدا سے تعلق رکھ رہے ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لوخلافت راشدہ کا زمانہ جو اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا اس وقت یہ دونوں باتیں موجود تھیں ایک طرف روحانیت کا غلبہ موجود تھا اور دوسری طرف دنیوی ضحی کا دور جاری تھا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۹ صفحه ۸۵،۸۴) الضحى ٣ الضحى ۴