خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 460
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۰ جلد سوم خلافت محفوظ چلی آتی ہے۔عیسائیت کے خراب ہونے کی وجہ سے بے شک انہیں وہ نور حاصل نہیں ہوتا جو پہلے زمانوں میں حاصل ہوا کرتا تھا مگر جماعت احمد یہ اسلامی تعلیم کے مطابق اس قانون کو ڈھال کر اپنی خلافت کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کے لئے محفوظ کر سکتی ہے۔چنانچہ اسی کے مطابق میں نے آئندہ انتخاب خلافت کے متعلق ایک قانون بنا دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت احمد یہ ایمان بالخلافت پر قائم رہی اور اس کے قیام کیلئے صحیح جد و جہد کرتی رہی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ خلافت قائم رہے گا اور کوئی شیطان اس میں رخنہ اندازی نہیں کر سکے گا۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر خلافت کا مسلمانوں سے وعدہ تھا تو حضرت علیؓ کے بعد خلافت کیوں بند ہو گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وعدہ شرطی تھا۔آیت کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ یہ وعدہ اُن لوگوں کے لئے تھا جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوں گے اور حصول خلافت کیلئے جو مناسب قومی اعمال ہوں گے وہ کرتے رہیں گے کیونکہ یہاں وعَمِلُوا الصلحت کے الفاظ ہیں اور صلح کے معنی عربی زبان میں ایسے کام کے ہوتے ہیں جو مناسب حال ہو۔چونکہ اس آیت میں خلافت کا ذکر ہے اس لئے آمَنُوا سے مراد آمَنُوا بِالْخِلَافَةِ ہے اور عملوا الصلحت سے مراد عَمِلُوا عَمَلًا مُنَاسَبَا لِحُصُولِ الْخِلافَةِ ہے۔اگر یہ شرط پوری نہ ہوگی تو خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوگا۔حضرت علیؓ کے بعد صرف لفظ خلافت باقی رہ گیا تھا لیکن عملاً با دشاہت قائم ہوگئی اور خلافت کیلئے جو شرط ہے کہ تبلیغ دین اور تبلیغ اسلام کرے وہ مٹ گئی تھی۔پس شرط کے ضائع ہونے سے مشروط بھی ضائع ہو گیا اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ٹل گیا۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب خلیفہ انتخاب سے ہوتا ہے تو پھر اُمت کے لئے اس کا عزل بھی جائز ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ گو خلیفہ کا تقر ر انتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے گوخلیفہ را لیکن یہ آیت نص صریح کے طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُمت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بناتا ہے اور اُس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے لیکن مقر راصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے لیسْتَخْلِفَنَّهُمْ کہ وہ خود ان کو خلیفہ بنائے گا۔