خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 461

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۱ جلد سوم پس گو خلفاء کا انتخاب مومنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے خلفاء میں میں فلاں فلاں خصوصیات پیدا کر دیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعام الہی ہوتے ہیں۔پس اس صورت میں اس اعتراض کی تفصیل یہ ہوئی کہ کیا اُمت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس شخص کو جو کامل موحد ہے، جس کے لئے دین کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے خدا نے تمام خطرات کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ شرک کو مٹانا چاہتا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کو محفوظ کرنا چاہتا ہے معزول کر دے؟ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو اُمت اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی ایسے شخص کو تو شیطان کے چیلے ہی معزول کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وعدہ کا لفظ ہے اور وعدہ احسان پر دلالت کرتا ہے پس اس اعتراض کے معنی یہ ہوں گے کہ چونکہ اس انعام کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اُمت کے ہاتھ میں رکھا ہے اسے کیوں حق نہیں کہ وہ اس انعام کو ر ڈ کرے۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ استنباط بدترین استنباط ہے۔جو انعام منہ مانگے ملے اُس کا رڈ کرنا تو انسان کو اور بھی مجرم بنادیتا ہے اور اس پر شدید حجت قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرمائے گا کہ اے لوگو! میں نے تمہاری مرضی پر چھوڑا اور کہا کہ میرے انعام کو کسی صورت میں لینا چاہتے ہو۔تم نے کہا ہم اس انعام کو فلاں شخص کی صورت میں لینا چاہتے ہیں اور میں نے اپنے فضل اس شخص کے ساتھ وابستہ کر دئیے۔جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں اب اس نعمت کے رڈ کرنے پر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ من كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَا وليكَ هُمُ الفسقون یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے اُمت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ اس انتخاب میں ہم اُمت کی رہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس لئے اس کے بعد امت کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یا در کھے کہ وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام