خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 459

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۹ جلد سوم خاص حکمت نے بعض وجودوں کو اُن کی اُمت کی خدمت کے لئے چن لیا تھا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ صلی علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ بعض ایسے وجود کھڑے کرے گا جو آپ کی اُمت کو سنبھال لیں گے۔اور یہ مقصد بہ نسبت سابق خلفاء کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے زیادہ پورا کیا ہے۔اور پھر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری کو مبعوث فرمایا جو موسوی شریعت کی خدمت کرنے والے ایک تابع نبی تھے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور اس طرح اُس تابع نبوت کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مناسب حال امتی نبوت ہے دروازہ کھول دیا اور آپ کے ذریعہ اُس نے پھر آپ کے ماننے والوں میں خلافت کو بھی زندہ کر دیا۔چنانچہ یہ سلسلہ خلافت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد شروع ہوا اور خلافت ثانیہ تک ممتد رہا اور اگر جماعت احمدیہ میں ایمان بالخلافت قائم رہا اور وہ اس کو قائم رکھنے کے لئے صحیح رنگ میں جدو جہد کرتی رہی تو اِنْشَاءَ اللہ تَعَالٰی یہ وعدہ لمبا ہوتا چلا جائے گا۔مگر جماعت احمدیہ کو ایک اشارہ جو اس آیت میں کیا گیا ہے کبھی نہیں بھولنا چاہئے اور وہ اشارہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہم نے پہلوں کو خلیفہ بنا یا اُسی طرح تمہیں خلیفہ بنا ئیں گے یعنی خلافت کو ممند کرنے کے لئے پہلوں کے طریق انتخاب کو مد نظر رکھو اور پہلی قوموں میں سے یہودیوں کے علاوہ ایک عیسائی قوم بھی تھی جس میں خلافت بادشاہت کے ذریعہ سے نہیں آئی بلکہ ان کے اندر خالص دینی خلافت تھی۔پس گما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ میں پہلوں کے طریق انتخاب کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔آپ کا الہام ہے کلیسیا کی طاقت کا نسخہ ۲۹ یعنی کلیسیا کی طاقت کی ایک خاص وجہ ہے اس کو یا درکھو۔گویا قرآن کریم نے كما استَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کے الفاظ میں جس نسخہ کا ذکر کر دیا تھا الہام میں اُس کی طرف اشارہ کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ جس طرح وہ لوگ اپنا خلیفہ منتخب کرتے ہیں اسی طرح یا اس کے قریب قریب تم بھی اپنے لئے خلافت کے انتخاب کا طریقہ ایجاد کرو۔چنانچہ اس طریق سے قریباً انیس سو سال سے عیسائیوں کی