خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 29

خلافة على منهاج النبوة ۲۹ جلد سوم جو اس مجلس میں موجود ہوں مد نظر رکھنی چاہئیں اور جو مجھے افسوس ہے کہ بعض اوقات دوستوں کے مدنظر نہیں رہتیں۔اول تو یہ کہ جب کوئی کلام امام کی موجودگی میں کرتا ہے اور امام کو مخاطب کر کے کرتا ہے تو دوسروں کا حق نہیں ہوتا کہ وہ خود اس میں دخل دیں اور مخاطب کو خود اپنی طرف مخاطب کر کے اُس سے گفتگو شروع کر دیں۔علاوہ اس کے کہ یہ عام آداب کے خلاف ہے، دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ امام خود جواب نہیں دے سکتا اور اس کے معتقدین کو ضرورت پیش آتی ہے کہ اس کے حملہ کو اپنے اوپر لے لیں۔چنانچہ ایک دوست کی ایسی ہی سادگی کی وجہ سے ایک دفعہ مجھے یہ بات بھی سننی پڑی۔کوئی صاحب اعتراض کر رہے تھے کہ ایک جو شیلے احمدی بول اُٹھے یہ بات تو بالکل صاف ہے، اس کا تو یہ مطلب ہے۔آخر سوال کرنے والے نے چڑ کر کہا میں تو آپ کے امام سے مخاطب ہوں اگر وہ جواب نہیں دے سکتے تو میں آپ سے گفتگو شروع کر دیتا ہوں۔یہ فقرہ اُس دوست نے اپنی سادگی یا بیوقوفی کی وجہ سے کہلوایا کیونکہ عام آداب کے یہ خلاف ہے کہ کسی کی گفتگو میں دخل دیا جائے۔یہ محض اعصابی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اور اس کے اتنے ہی معنی ہوتے ہیں کہ ایسا شخص اپنے جذبات کو دبا نہیں سکتا ہے۔ایسی دخل اندازی اس کے علم پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کی کمزوری اور کم فہمی پر دلالت کرتی ہے۔پس ہمیشہ اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ جب امام کی مجلس میں امام سے گفتگو ہو رہی ہو تو سب کو خاموش ہو کر سامع کی حیثیت اختیار کرنی چاہئے اور کبھی اس میں دخل اندازی کر کے خود حصہ نہیں لینا چاہئے سوائے اس صورت کے کہ خود امام کی طرف سے کسی کو کلام کرنے کی ہدایت کی جائے۔مثلاً بعض دفعہ کوئی ضروری کام آپڑتا ہے ، اس کے لئے مخاطب کرنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ قرآن کی کسی آیت کی تلاش کیلئے اگر کوئی حافظ قرآن ہوں تو اُن سے آیت کا حوالہ پوچھنا پڑتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ کسی کو عیسائیت کی کتب کے حوالہ جات بہت سے یاد ہوں اور ضرورت پر اس سے کلام کرنی پڑے۔ایسی حالتوں میں سامعین میں سے بھی بعض شخص بول سکتے ہیں مگر عام حالات میں دخل اندازی بالکل نا واجب ہوتی ہے۔ہماری شریعت نے ان تمام باتوں کا لحاظ رکھا ہے۔چنانچہ خطبوں