خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 30
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ اس دوران کلام نہیں کرنی چاہئے لی۔غرض جب امام سے گفتگو ہو رہی ہو تو اس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔کیونکہ اس طرح یا تو بات ناقص اور ادھوری رہ جائے گی اور یا دشمن پر یہ اثر پڑے گا کہ شاید امام اس کا جواب نہیں دے سکتا اور معتقدین نے گھبرا کر اس حملہ کو اپنی طرف منتقل کر لیا ہے پس ایک تو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے۔دوسرے اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ مخاطب اور مخاطب کا ایک تعلق ہوتا ہے۔وہ آپس میں بعض دفعہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے ایک رنگ کی شدت کا پہلو بھی اختیار کر لیتے ہیں یا اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر سامعین کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے اور دوسرے کی گفتگو پر ہنسنا نہیں چاہئے۔کیونکہ گفتگو کا اصل مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اُس شخص کو ہدایت حاصل ہو لیکن اگر گفتگو کے ضمن میں ایسا رنگ پیدا ہو جائے جس سے اس کے دل میں تعصب پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔میں نے دیکھا ہے نوجوان اور خصوصاً طالب علم ، اگر بعض دفعہ کوئی ایسا جواب دیا جا رہا ہو جو دوسرے کے کسی نقص کو نمایاں کرنے والا ہو تو ہنس پڑتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائل سمجھتا ہے مجھے لوگوں کی نگاہ میں بیوقوف بنایا گیا اور ان کے ہنس پڑنے سے وہ خیال کرتا ہے کہ اس گفتگو کا مقصد مجھ پر بنی اُڑانا ہے بات سمجھانا مد نظر نہیں۔اس وجہ سے اس کے اندر نفسانیت کا جذ بہ پیدا ہو جاتا اور حق کے قبول کرنے سے وہ محروم رہ جاتا ہے۔پس جو لوگ ایسے موقع پر جبکہ امام کسی کو ہدایت دینے کی فکر میں ہوتا ہے ہنس پڑتے ہیں وہ دراصل اس شخص کو ہدایت سے محروم کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک بنی ایک معمولی چیز ہوتی ہے مگر جس پر ہنی اُڑائی جاتی ہے اس کے نزدیک خطر ناک حملہ ہوتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اگر دوران گفتگو میں کوئی ایسا جواب دیا جائے جس سے ہنسی آسکتی ہو یا دوسرے کی کسی کمی کو نمایاں کر کے دکھا یا جائے تو وہ اپنے جذبات کو دبائے رکھیں۔جواب دینے والا تو مجبور ہے کہ وہ ایسے نمایاں طور پر کسی کا نقص بیان کرے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے مگر ہننے والا اس مقصد پر پردہ ڈال دیتا اور سائل یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کا مقصد مجھے۔