خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 415

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۵ جلد سوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظریں انہی کی طرف اُٹھتی ہیں اور وہ اسے تمام لوگوں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کر دیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرا دیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی آپ کو گرا دیا جائے اور اس بد نیتی کو پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر ایک نہایت گندا الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں تو اشارۃ بیان کیا گیا ہے لیکن حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔عبداللہ بن ابی ابن سلول کی اس سے غرض یہ تھی کہ اس طرح حضرت ابو بکر ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہو جائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم۔ہونا اسے یقینی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں برباد ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبد اللہ بن ابی ابن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ بعض اور لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میرے ساتھ ایک لاکھ سپاہی ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنی جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کرلوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اسلام میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کر لو۔وہ کہنے لگا میں بیعت کرنے کیلئے تو تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبر دست قوم ہے اس لئے میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اُس وقت کھجور کی ایک شاخ تھی آپ نے مسیلمہ کذاب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم تو یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کر دیں تو میں ان کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور اپنی