خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 416

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۶ جلد سوم تمام قوم سمیت مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔تو مسیلمہ کذاب نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بادشاہت ملنے کی آرزو کی تھی۔یہی حال عبد اللہ بن ابی ابن سلول کا تھا۔چونکہ منافق ہمیشہ اپنی موت کو ہمیشہ دور سمجھتا ہے اور دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لئے عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی اپنی موت کو دور سمجھتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں عرب کا بادشاہ بنوں لیکن اب اس نے دیکھا کہ ابو بکر کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابو بکر آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابو بکڑ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔یہ دیکھ کر عبد اللہ بن ابی ابن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امیدیں لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا اور اُس نے چاہا کہ اس کا ازالہ کرے۔چنانچہ اسی امر کا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں سے گرانے کے لئے اُس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے نفرت پیدا ہوا اور حضرت عائشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ حضرت ابو بکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہو جائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بننے کا کوئی امکان نہ رہے۔چنانچہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالافْكِ عُصْبَةً مِّنكُمْ کے کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا ہے وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھا ہے۔مگر فرماتا ہے لا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ^ تم یہ خیال مت کرو کہ یہ الزام کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہو جائے گا۔چنانچہ لواب ہم خلافت کے متعلق اصول بھی بیان کر دیتے ہیں اور تم 스