خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 414

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۴ جلد سوم ہے اور ہم اُس کی بیعت کر آئے ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور چند دنوں کے بعد اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔اور پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلم ہمارے ساتھ بھیجیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔اُنہی دنوں چونکہ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بہت تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سمیت مدینہ ہجرت کر کے آگئے اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کیلئے جو تاج تیار کروایا جا رہا تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔کیونکہ جب اُنہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اُسے سخت غصہ آیا اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں۔لیکن خدا تعالیٰ نے اُس کے اس ارادہ میں بھی اسے زک دی کیونکہ اس کا اپنا بیٹا بہت مخلص تھا جس کے معنی یہ تھے کہ اگر وہ بادشاہ ہو بھی جاتا تو اس کے بعد حکومت پھر اسلام کے پاس آجاتی۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے اُسے اس رنگ میں زک دی کہ مسلمانوں میں جو نہی ایک نیا نظام قائم ہوا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیئے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے؟ آپ کے بعد اسلام کا کیا بنے گا ؟ اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ؟ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا۔چنانچہ اس کیلئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابو بکر ہے اور