خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 399
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۹ جلد سوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا قیام ، سورۃ مؤمنون کی آیت ۲ قدافلح الْمُؤْمِنُون کی تفسیر بیان کرتے ہوئے مؤمنین کی صفات بیان کیں اور اس ضمن میں شیعیت کا بھی ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں :۔پھر شیعہ کہتے ہیں کہ خلافت کا اصل حق تو حضرت علیؓ کا تھا اور انہی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت بھی فرمائی تھی مگر ابو بکر اور عمر جن کو خلافت کی خواہش تھی انہوں نے حضرت علی کا حق غصب کر لیا اور خود خلیفہ بن گئے۔یہ عقیدہ بھی اول تو اس لحاظ سے غلط ہے کہ حضرت علیؓ جیسے بہادر اور شجاع انسان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ ایک امر کو حق سمجھتے ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا حامل ہوتے ہوئے اس کے خلاف عمل کرنے والوں کے مقابلہ میں خاموش رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور عالم اسلام کو تباہی کے گڑھے میں گرتے دیکھ کر بھی کوئی قدم اُٹھا نا مناسب نہ سمجھا بالکل عقل کے خلاف ہے۔پھر تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر کی بھی بیعت کی تھی اور پھر حضرت عمر کی بھی بیعت کی تھی اور ان دونوں خلفاء کے ساتھ مل کر وہ کام کرتے رہے بلکہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بعض سفروں کے پیش آنے پر حضرت علی کو اپنی جگہ مدینہ کا امیر بھی مقرر فرمایا۔چنانچہ طبری میں لکھا ہے کہ واقعہ جسہ کے موقع پر جبکہ مسلمانوں کو ایرانی فوجوں کے مقابلہ میں ایک قسم کی زک اُٹھانی پڑی تھی حضرت عمرؓ نے لوگوں کے مشورہ سے ارادہ کیا کہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران کی سرحد پر تشریف لے جائیں اور آپ نے اپنے پیچھے حضرت علیؓ کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔اسی طرح جب مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور وہاں کے لوگوں نے اُس وقت تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا جب تک کہ